وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان ریلوے نے حالیہ عرصے میں نمایاں بہتری کے بعد 10 ارب روپے کا منافع حاصل کیا ہے، جو ادارے کی مالی بحالی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریلوے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور قومی معیشت میں اس کے کردار کو مزید مضبوط بنانے کے لیے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ ہزارہ ڈویژن کے لیے نئے ریلوے ٹریک کا منصوبہ تکمیل کے قریب ہے اور امید ہے کہ سال کے اختتام تک اس منصوبے کا آغاز کر دیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس نئے ٹریک سے نہ صرف علاقائی رابطہ بہتر ہوگا بلکہ مسافروں کو بھی سفری سہولتیں میسر آئیں گی۔
حنیف عباسی نے کہا کہ پاکستان ریلوے کو وسطی ایشیائی ریاستوں سے منسلک کرنے کا جامع منصوبہ بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس اہم منصوبے کی بنیاد رواں سال کے آخر میں رکھی جائے گی، جس سے پاکستان کو علاقائی تجارت اور ٹرانزٹ حب بنانے میں مدد ملے گی۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ ملکی معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔
وفاقی وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ پاکستان پر اصل حق ان لوگوں کا ہے جو اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، اور انہی قربانیوں کے باعث پوری دنیا آج پاکستان کی کامیابیوں کی معترف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز کے باوجود پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
پاکستان ریلوے کوچز اور ویگنز پانچ ممالک کو ایکسپورٹ کرے گا: حنیف عباسی
انہوں نے مزید بتایا کہ راولپنڈی میں عوامی سہولتوں کو بہتر بنانے کے لیے مختلف ترقیاتی منصوبے جاری ہیں، جن میں اسکولوں، کالجوں اور اسپتالوں کی اپ گریڈیشن شامل ہے۔ حنیف عباسی کے مطابق حکومت کا مقصد عوام کو بہتر تعلیمی، طبی اور سفری سہولتیں فراہم کرنا ہے تاکہ عام شہری کی زندگی میں عملی بہتری لائی جا سکے۔
وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ریلوے کی کارکردگی میں مزید بہتری کے لیے اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور ادارے کو ایک منافع بخش اور جدید قومی اثاثہ بنایا جائے گا۔
