وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو اسپتال منتقل کیے جانے سے متعلق خبروں کی فوری تصدیق یا تردید کرنے سے گریز کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر قیاس آرائیوں اور سنسنی پھیلانے کے بجائے سرکاری مؤقف کا انتظار کیا جانا چاہیے، اور حکومت مناسب وقت پر اس حوالے سے وضاحت کرے گی۔
نجی ٹی وی پروگرام ’’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ زیر گردش خبروں پر قبل از وقت ردعمل دینا درست نہیں۔ ان کے مطابق اگر عمران خان کو اسپتال لے جانے کی خبر درست ثابت ہوتی ہے تو اس سے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ حکومت بانی پی ٹی آئی کو درکار طبی سہولتیں فراہم کر رہی ہے اور ان کے علاج میں کوئی کوتاہی نہیں برتی جا رہی۔
وزیر مملکت نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ عمران خان کی صحت یا زندگی کو کسی قسم کا خطرہ لاحق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے پھیلائی جانے والی افواہوں میں کوئی حقیقت نہیں اور انہیں جیل میں دیگر قیدیوں کے مقابلے میں زیادہ اور بہتر سہولتیں دی جا رہی ہیں۔ طلال چوہدری کے مطابق حکومت قانون اور قواعد کے تحت تمام ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے۔
لاہور لندن سے زیادہ محفوظ ہے، طلال چوہدری کا دعویٰ اور کالے شیشوں پر سخت موقف
انہوں نے پاکستان تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے پاس اڈیالہ جیل کے باہر سیاسی ڈراما کرنے کے علاوہ کوئی مؤثر حکمت عملی نہیں رہی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں یہ بھی بعید از قیاس ہے کہ جیل حکام ملاقات کی اجازت دیں گے۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں جن کے مطابق عمران خان کو اسپتال لے جایا گیا اور بعد ازاں دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا، تاہم یہ نہیں بتایا جا رہا کہ انہیں کس بیماری یا طبی مسئلے کے باعث اسپتال لے جایا گیا۔ اسی بیان کے بعد اس معاملے پر سیاسی اور میڈیا حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں، جن پر اب حکومت کی جانب سے محتاط ردعمل سامنے آیا ہے۔
