نیب (نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو) نے کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل میں اپنی تاریخ کی سب سے بڑی یکمشت ریکوری انجام دیتے ہوئے مرکزی ملزم قیصر اقبال کے فرنٹ مین ممتاز خان سے 4 ارب 5 کروڑ روپے قومی خزانے میں جمع کروا دیے۔ ممتاز خان رقوم جمع کرانے کے بعد رہا ہوگیا۔
ذرائع کے مطابق ممتاز خان نے پلی بارگین کے تحت یہ رقم نقد، جائیداد اور گاڑیوں کی صورت میں جمع کرائی۔ ملزم قیصر اقبال نے مبینہ طور پر اپنے فرنٹ مین کو استعمال کیا، جس نے جعلی کمپنی کے نام پر بینک اکاؤنٹس کھولے اور انہی کے ذریعے قومی خزانے سے بڑی رقم منتقل کی۔
نیب کے مطابق کوہستان اسکینڈل میں 36 سے زائد ملزمان گرفتار ہوچکے ہیں جبکہ 30 ارب روپے کے اثاثے سیل اور بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں۔
احتساب عدالت کے انتظامی جج ظفر خان نے پلی بارگین کی درخواست منظور کی۔ ڈپٹی پراسیکیورٹر جنرل نیب خیبر پختونخوا محمد علی نے عدالت کو بتایا کہ ممتاز خان کی اکاؤنٹس میں 4 ارب روپے کی ٹرانزکشن سے متعلق ثبوت حاصل ہو چکے ہیں، جس کے بعد ملزم نے پلی بارگین کی درخواست دی تھی۔
نیب کے مطابق یہ اقدام ملکی خزانے میں سب سے بڑی یکمشت ریکوری کے طور پر ریکارڈ میں درج ہو چکا ہے اور اسکینڈل کے دیگر ملزمان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔
