مچل مارش کی قیادت میں آسٹریلوی کرکٹ ٹیم آج بدھ کے روز دو مختلف گروپس کی صورت میں لاہور پہنچے گی، جہاں وہ پاکستان کے خلاف تین ٹی 20 میچز پر مشتمل سیریز میں شرکت کرے گی۔ دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا ٹی 20 میچ جمعرات کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا، جس کے لیے شائقینِ کرکٹ میں خاصا جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق آسٹریلوی کھلاڑی کسی باضابطہ پریکٹس سیشن کے بغیر ہی میدان میں اتریں گے اور براہِ راست پہلا میچ کھیلیں گے۔ اس کے برعکس میزبان پاکستانی ٹیم کی تیاریاں بھرپور انداز میں جاری ہیں۔ پاکستان ٹیم نے قذافی اسٹیڈیم میں جاری تربیتی کیمپ کے تیسرے روز بھی سخت محنت کی، جہاں کھلاڑیوں نے وارم اپ، نیٹ پریکٹس اور فیلڈنگ ڈرلز میں حصہ لیا۔
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان اس سیریز کو ورلڈ کپ کی تیاریوں کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ آسٹریلوی اسکواڈ میں پیٹ کمنز، جوش ہیزل ووڈ، گلین میکسویل سمیت پانچ بڑے اسٹار کھلاڑی شامل نہیں، کیونکہ وہ ورلڈ کپ اسکواڈ کا حصہ ہیں، تاہم اس کے باوجود مہمان ٹیم میں کئی تجربہ کار اور باصلاحیت کرکٹرز موجود ہیں جو کسی بھی لمحے میچ کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بدھ کی دوپہر دونوں ٹیموں کے کپتان ٹرافی کی رونمائی کریں گے، جس کے بعد وہ میڈیا سے گفتگو بھی کریں گے۔ اس موقع پر سیریز، ٹیم کمبی نیشن اور آئندہ حکمتِ عملی سے متعلق اہم نکات سامنے آنے کی توقع ہے۔ تینوں ٹی 20 میچز قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے جائیں گے، جہاں شائقین کی بڑی تعداد کی آمد متوقع ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے سیریز کے کامیاب انعقاد کے لیے سیکیورٹی سمیت تمام انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ اسٹیڈیم اور اس کے اطراف سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کھلاڑیوں اور شائقین کو محفوظ اور خوشگوار ماحول فراہم کیا جا سکے۔
دوسری جانب پاکستانی ٹیم کے کوچنگ اسٹاف نے بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ کے تمام شعبوں پر خصوصی توجہ دی ہے۔ ٹیم مینجمنٹ کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف یہ سیریز موجودہ کمبی نیشن کو آزمانے اور خامیوں کو دور کرنے کا بہترین موقع فراہم کرے گی۔ کھلاڑیوں میں سیریز کے حوالے سے اعتماد اور مثبت جذبہ واضح طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان ٹیم ہوم کنڈیشنز کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے سیریز میں برتری حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے، جبکہ شائقین کرکٹ کو ایک سنسنی خیز اور اعلیٰ معیار کی سیریز دیکھنے کی امید ہے۔ پاک آسٹریلیا ٹی 20 سیریز بلاشبہ دونوں ٹیموں کے لیے ورلڈ کپ سے قبل ایک اہم امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔
