واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست منی سوٹا میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) اہلکاروں کے ہاتھوں شہری کی ہلاکت کے واقعے پر متنازعہ موقف اختیار کرتے ہوئے خود ہلاک ہونے والی نرس الیکس پریٹی کو ہی اپنی موت کا ذمہ دار ٹھہرادیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ الیکس پریٹی کو لائسنس یافتہ پستول رکھنے کا حق نہیں استعمال کرنا چاہیے تھا اور اس کے اس اقدام نے کشیدگی میں اضافہ کیا۔ انہوں نے واقعے کو بدقسمتی قرار دیا اور کہا کہ صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
منی سوٹا میں ICE اہلکاروں نے ایک چھاپے کے دوران نرس الیکس پریٹی کو ہلاک کر دیا تھا، جب کہ اسی آپریشن میں ایک اور خاتون کو بھی سر پر گولی لگنے سے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ واقعے کے بعد متعدد شہروں میں مظاہرے اور احتجاجی ریلیاں بھی منعقد ہوئیں، جن میں اہلکاروں کے رویے اور مسلح شہریوں کی حفاظت کے نظام پر سوالات اٹھائے گئے۔
ٹرمپ کے بیان نے عوام اور سیاسی حلقوں میں تنازع کھڑا کر دیا ہے، کیونکہ ہلاک ہونے والے شہری کو قصوروار قرار دینا ایک غیر معمولی موقف سمجھا جا رہا ہے۔ کئی حلقوں نے صدر کے بیان کو امیگریشن اہلکاروں کی بلاجواز طاقت کے استعمال کی توجیہہ قرار دیا ہے۔
امریکی ریاست منی سوٹا میں امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ، ایک اور ہلاکت کے بعد کشیدگی
اہلکاروں اور انتظامیہ نے کہا ہے کہ چھاپے کے دوران صورتحال کشیدہ تھی اور ہلاک ہونے والے شہری نے اسلحہ استعمال کیا تھا، جس کے بعد اہلکاروں نے جواب میں فائرنگ کی۔ تاہم صدر کے موقف نے اس واقعے کی قانونی اور اخلاقی پیچیدگیوں پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
یہ واقعہ امریکی معاشرے میں مسلح شہریوں، امیگریشن اہلکاروں اور حکومت کے اقدامات کے بارے میں جاری بحث میں ایک اور سنگین موڑ ثابت ہوا ہے، اور اس کے اثرات آئندہ دنوں میں سیاسی اور سماجی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔
