ایران میں معاشی بحران کے دوران ایرانی ریال کی قدر میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث اوپن مارکیٹ میں ریال ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں 15 لاکھ تک گر گیا ہے، جو اب تک کی سب سے کم سطح ہے۔ یہ گراوٹ ایرانی معیشت کے لیے ایک سنگین تنبیہ تصور کی جا رہی ہے اور اس سے عوام اور کاروباری طبقات میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق تہران اور دیگر بڑے شہروں میں ایکسچینج کی دکانوں پر یہ شرح پیش کی جا رہی ہے، جبکہ ایران کئی برسوں سے بدانتظامی، کرپشن اور سخت بین الاقوامی پابندیوں کے باعث شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ ملکی کرنسی کی مسلسل گراوٹ نے شہریوں کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے اور ضروری اشیا کی قیمتیں بڑھ کر عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ریال کی حالیہ تاریخی کمی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ایران کی معیشت نہ صرف بیرونی دباؤ بلکہ اندرونی مالی بے ضابطگیوں اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کا بھی شکار ہے۔ شہریوں کے درمیان تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور سرمایہ کاری کے لیے اعتماد ختم ہو چکا ہے۔
یہ صورتحال تہران کے گرینڈ بازار میں دکانداروں کی جانب سے احتجاجاً دکانیں بند کرنے کے تقریباً ایک ماہ بعد سامنے آئی ہے۔ اس احتجاج کی وجہ ریال کی تیز گراوٹ اور خراب ہوتی معیشت بتائی گئی تھی۔ بعد ازاں یہ مظاہرے دیگر شہروں تک بھی پھیل گئے اور کئی مقامات پر پرتشدد صورت اختیار کر گئی، جس سے حکومت کے لیے حالات سنجیدہ ہو گئے ہیں۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حکومت نے فوری اصلاحات نہ کیں تو ریال کی قدر میں مزید کمی اور معاشی بحران میں شدت کا امکان ہے، جس کے اثرات عام شہریوں، کاروباری افراد اور بیرونی سرمایہ کاروں پر پڑیں گے۔ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ایران کے لیے بیرونی پابندیوں میں نرمی، مالی شفافیت اور کرنسی کو مستحکم کرنے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
