بھارت اور یورپی یونین نے تقریباً دو دہائیوں سے زیر التوا بات چیت کے بعد ایک تاریخی تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے ’’مدر آف آل ڈیلز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ بھارت اور یورپ کے کروڑوں عوام کے لیے بڑے معاشی مواقع پیدا کرے گا۔
معاہدے کے تحت بھارت اپنی مارکیٹ کو 27 ممالک پر مشتمل یورپی یونین کے لیے فری ٹریڈ کے تحت کھولے گا، جبکہ یورپی یونین بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ مالی سال 2025 کے اختتام تک بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تجارت کا حجم 136.5 ارب ڈالر رہا۔
بھارتی وزیر اعظم اور یورپی کمیشن کی صدر اُرسلا فان ڈیر لیئن نئی دہلی میں ہونے والے بھارت–یورپی یونین سمٹ میں معاہدے کی تفصیلات کا مشترکہ اعلان کریں گے۔ معاہدے پر باضابطہ دستخط قانونی جانچ پڑتال کے بعد پانچ سے چھ ماہ میں ہوں گے، جبکہ اس پر عمل درآمد ایک سال کے اندر متوقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈیل بھارت کی محنت طلب برآمدات بڑھانے میں مدد دے گی اور یورپی مصنوعات کو بھارتی مارکیٹ میں قیمت میں فائدہ حاصل ہوگا، جبکہ دونوں فریقین امریکا کے غیر یقینی تجارتی حالات کے پیش نظر متبادل شراکت داریوں کو فروغ دینے کا موقع بھی حاصل کریں گے۔
