وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجار نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے پولیس سکیورٹی واپس لینے کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن افراد کو قانون اور سکیورٹی کے پیش نظر حفاظتی اقدامات دیے گئے ہیں، وہ جاری رہیں گے۔
جیو نیوز سے گفتگو میں ضیاء لنجار نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفی کمال اور خالد مقبول صدیقی اسلام آباد میں موجود ہیں اور کسی بھی شخص سے دی گئی سکیورٹی واپس نہیں لی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ خبریں غیر مصدقہ اور افواہوں پر مبنی ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز میڈیا میں یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے اہم وزرا اور اراکین اسمبلی کی سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے، جس پر وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے بھی اپنے خلاف سکیورٹی ختم کرنے کے دعوے کیے تھے۔
حافظ نعیم: پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کراچی کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں
دوسری جانب جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حکومت سندھ کی ترجمان سعدیہ جاوید نے کہا کہ اگر کسی رہنما سے سکیورٹی واپس لی گئی ہے تو اس کے پیچھے یقیناً قانونی یا انتظامی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں پولیس کی نفری محدود ہے، اسی وجہ سے بعض حفاظتی اقدامات میں تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں۔ سعدیہ جاوید نے یہ بھی بتایا کہ حتیٰ کہ ان کے پاس بھی پولیس سکیورٹی نہیں ہے۔
وزیر داخلہ سندھ نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی کہ اس قسم کی افواہوں پر بھروسہ نہ کیا جائے اور سکیورٹی سے متعلق معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع کو ہی ترجیح دی جائے، تاکہ غلط فہمی اور تشویش پیدا نہ ہو۔
