سانحہ گل پلازہ: وزیراعلیٰ سندھ کا متاثرین کے لیے بڑا ریلیف پیکیج

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

سانحہ گل پلازہ کے دلخراش واقعے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے متاثرہ دکانداروں اور لواحقین کے لیے ایک جامع اور بڑے مالی امدادی پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سندھ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور دو ماہ کے اندر گل پلازہ میں تمام متاثرین کو نئی دکانیں تیار کر کے دی جائیں گی تاکہ وہ دوبارہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں۔

latest urdu news

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کسی قیمتی جان کا ازالہ ممکن نہیں، تاہم حکومت کی ذمہ داری ہے کہ متاثرہ خاندانوں کا بھرپور ساتھ دے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ سانحے میں جاں بحق ہونے والے ہر فرد کے لواحقین کو حکومت سندھ کی جانب سے ایک کروڑ روپے بطور معاوضہ دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ گل پلازہ کے ہر دکاندار کو فوری طور پر پانچ لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ دو ماہ تک اپنے گھر کا کچن چلا سکیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ جب تک نئی عمارت تعمیر نہیں ہو جاتی، متاثرین کو مالی مشکلات سے بچانے کے لیے یہ امداد دی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ انویسٹمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے ہر دکاندار کو ایک کروڑ روپے کا قرض بھی دیا جائے گا، جس پر سود حکومت سندھ خود ادا کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ نئی تعمیر میں جتنی دکانیں پہلے تھیں، ایک انچ بھی اس سے زیادہ جگہ نہیں لی جائے گی اور تمام کام دکانداروں کی مشاورت سے مکمل کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ گل پلازہ کے مقام پر نئی اور محفوظ عمارت حکومت سندھ خود تعمیر کرے گی جبکہ کراچی چیمبر آف کامرس کے تعاون سے دکانوں میں موجود ضائع ہونے والا سامان بھی پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نقصانات کا ازالہ حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے عملی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔

گل پلازہ سانحہ: این ای ڈی یونیورسٹی کی ٹیکنیکل ٹیم نے تحقیقات شروع کر دی

انہوں نے اس موقع پر کراچی کے انفرا اسٹرکچر پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ عید کے بعد شاہراہ بھٹو کو ایم نائن تک فعال کر دیا جائے گا جس سے ٹریفک کے مسائل میں نمایاں کمی آئے گی اور روزانہ تقریباً پچاس ہزار افراد کو سہولت حاصل ہوگی۔

سانحے سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس افسوسناک واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور اب تک اس حادثے میں 80 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ماضی میں کوتاہیاں ہوئیں جن کی وہ ذمہ داری قبول کرتے ہیں، تاہم اب ذمہ داران کو ہر صورت سزا دی جائے گی۔

مراد علی شاہ نے مزید بتایا کہ اس سانحے کے بعد صوبے بھر میں تمام عمارتوں کے آڈٹ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جو عمارتیں حفاظتی اقدامات پر پورا نہیں اتریں گی انہیں سیل کر دیا جائے گا اور اس معاملے میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اجتماعی طور پر یہ عہد کرنا ہوگا کہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات دوبارہ نہ ہوں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter