خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت وادی تیراہ میں ہونے والے آپریشن کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
وفاقی حکومت کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے شفیع جان کا کہنا تھا کہ وادی تیراہ سے شہریوں کے انخلا سے متعلق وفاقی مؤقف بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب پوری قوم جان چکی ہے کہ وادی تیراہ کے عوام آپریشن کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں، اور اس حقیقت کی تصدیق وفاقی وزرا خواجہ آصف اور طلال چوہدری کی قومی اسمبلی میں کی گئی تقاریر سے بھی ہوتی ہے، جو ریکارڈ کا حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وادی تیراہ آپریشن کے حوالے سے اپنا مؤقف متعدد بار واضح کر چکے ہیں۔ صوبائی اسمبلی کے جرگہ امن میں تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر آپریشن کی مخالفت کی تھی، اس کے باوجود صوبائی حکومت، سیاسی قیادت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، جو ایک سنجیدہ کوتاہی ہے۔
سندھ حکومت پر جناح باغ میں آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا الزام: شفیع جان
شفیع جان نے مزید کہا کہ تیراہ سے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے چار ارب روپے کے اجرا سے متعلق وفاقی حکومت کا بیان انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ ان کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے صوبائی حکومت نے بروقت فنڈز جاری کیے اور امدادی سرگرمیاں اپنے وسائل سے جاری رکھیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت حقائق تسلیم کرے، متاثرین کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کرے اور سیاسی بیان بازی کے بجائے زمینی مسائل کے حل پر توجہ دے۔
