انگلینڈ اور ویلز میں پولیس اصلاحات: شبانہ محمود کا نیا منصوبہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

برطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے انگلینڈ اور ویلز میں پولیسنگ نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا اعلان کر دیا ہے۔ ان اصلاحات کے تحت موجودہ مقامی پولیس فورسز کی جگہ ایک نیشنل پولیس سروس قائم کی جائے گی، جو ملک بھر میں سیکیورٹی اور جرائم کے مؤثر انتظام کی ذمہ دار ہوگی۔

latest urdu news

نیشنل پولیس سروس: جدید اور یکساں فورس

شبانہ محمود کے مطابق نئی نیشنل پولیس سروس کا مقصد کاؤنٹر ٹیررازم، فراڈ اور منظم جرائم سے نمٹنا ہوگا۔ یہ فورس برٹش ایف بی آئی کے مساوی ہوگی، جبکہ این سی اے اور دیگر ریجنل آرگنائزڈ کرائم یونٹس بھی اس کے تحت کام کریں گے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ تمام پولیس افسران کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی، جس میں فیشل ریکگنیشن کیمرے اور دیگر جدید سیکیورٹی آلات شامل ہوں گے۔ شبانہ محمود نے کہا کہ موجودہ پولیسنگ نظام کئی مسائل اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، جس کی وجہ سے جرائم پر مؤثر کنٹرول ممکن نہیں۔

پولیس فورسز کا ضم ہونا اور قیادت

میڈیا رپورٹس کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں موجود 43 مقامی پولیس فورسز کو 12 بڑی فورسز میں ضم کیا جائے گا۔ ہر پولیس افسر کے پاس لائسنس ہونا لازمی ہوگا، جبکہ نئی نیشنل پولیس فورس کی قیادت نیشنل پولیس چیف کمشنر کریں گے۔ اس فورس کی خصوصیت یہ ہوگی کہ یہ پورے ملک میں کام کرنے کے قابل ہوگی اور مقامی فورسز کی حدود سے آزاد ہوگی۔

پولیس اصلاحات کی اہمیت

یہ اصلاحات برطانیہ میں جرائم پر کنٹرول، منظم جرائم کی روک تھام اور قومی سیکیورٹی مضبوط کرنے کے لیے ایک اہم قدم تصور کی جا رہی ہیں۔ شبانہ محمود نے وعدہ کیا ہے کہ پولیس اصلاحات کی تفصیلی منصوبہ بندی اور نفاذ کی معلومات کل باضابطہ طور پر عوام کے سامنے پیش کی جائیں گی۔

یہ اقدامات ملک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت بڑھانے، جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے اور ایک یکساں، مربوط پولیسنگ نظام کے قیام کی جانب اہم پیش رفت ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter