نئی دہلی میں حسینہ واجد کو خطاب کی اجازت: بنگلادیشی وزارت خارجہ کا شدید احتجاج

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی جرائم ٹربیونل سے سزا یافتہ مفرور سابق وزیراعظم کو عوامی خطاب کی اجازت دینا بنگلادیشی عوام کی توہین ہے

latest urdu news

بنگلادیشی وزارت خارجہ نے بھارت سے سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانیت کے خلاف جرائم میں سزا یافتہ اور مفرور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو نئی دہلی میں عوامی تقریب سے خطاب کرنے کی اجازت دینا ناقابل قبول ہے۔ وزارت خارجہ نے اسے واضح طور پر بنگلادیشی عوام اور حکومت کی توہین قرار دیا۔

وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ شیخ حسینہ نے خطاب کے دوران بنگلا دیش کی عبوری حکومت کو ہٹانے کا مطالبہ کیا اور اپنے پارٹی حامیوں کو آئندہ انتخابات کو سبوتاژ کرنے کے لیے تشدد اور دہشت گردی کی کارروائیوں پر اکسایا۔

الیکشن کے تناظر میں تشویش

یاد رہے کہ بنگلا دیش میں سابق وزیراعظم حسینہ واجد کے بھارت فرار ہونے کے بعد 12 فروری کو عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ وزارت خارجہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ حسینہ کی جانب سے یہ بے لگام اشتعال انگیزی آئندہ انتخابات کے دوران تشدد اور دہشت گردی کے واقعات کو بڑھا سکتی ہے۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ انتخابات کے دوران کسی بھی تشدد یا دہشت گردی کا ذمہ دار یہ گروہ ہوگا اور حکومت اس کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔

بھارت کی ذمہ داری پر مایوسی

بنگلادیشی وزارت خارجہ نے بھارت پر بھی تنقید کی کہ وہ بارہا درخواستوں کے باوجود حسینہ واجد کو حوالگی کے معاہدے کے تحت بنگلا دیش کے حوالے کرنے میں تساہل کر رہا ہے۔ دوسری طرف بھارت نے اسے اپنی سرزمین سے عوامی خطاب کرنے کی اجازت دے دی، جو بنگلا دیش کے لیے جمہوری عمل، امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ واقعہ بنگلا دیش اور بھارت کے مستقبل کے تعلقات کے لیے خطرناک مثال ہے اور اس سے دوطرفہ تعلقات اور منتخب قیادت کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

شیخ حسینہ واجد کو بدعنوانی کیس میں 5 سال قید، بہن اور بھانجی کو بھی سزا

بنگلادیشی وزارت خارجہ کا موقف یہ ہے کہ شیخ حسینہ کے بھارت میں عوامی خطاب کی اجازت دینا بین الاقوامی قوانین اور اخلاقی ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔ وزارت خارجہ نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے اور مفرور سابق وزیراعظم کو فوری طور پر بنگلا دیش کے حوالے کرے تاکہ آئندہ انتخابات میں امن اور جمہوری عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter