وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے جیو نیوز کے پروگرام "نیا پاکستان” میں کہا کہ وادی تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کی صورتحال پر صوبائی حکومت کو وضاحت دینی چاہیے۔ ان کے مطابق وزارت اطلاعات پہلے ہی تردید کرچکی ہے کہ وادی تیراہ میں کوئی بڑا فوجی آپریشن جاری نہیں ہے، لہٰذا یہ سمجھنا مشکل ہے کہ لوگ نقل مکانی کیوں کر رہے ہیں۔
احسن اقبال نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت نے کسی قسم کی اپیل نہیں کی کہ شہری وادی تیراہ چھوڑیں، اور ان کے خیال میں لوگ ممکنہ طور پر بے امنی اور دہشت گردی کے خوف کی وجہ سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی حکومت پر تنقید
وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ ہیں یا پاکستان کے عوام کے ساتھ۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی حکومت مسلسل اداروں کے خلاف مہم چلا رہی ہے اور ان کے رویے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عوام کی حفاظت میں ناکام ہیں۔ احسن اقبال نے کہا، "یہ لوگ ہمیں خوارج کے حمایتی لگتے ہیں، لا اینڈ آرڈ برقرار رکھنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے اور یہ اس میں ناکام نظر آ رہی ہے۔”
وادی تیراہ میں آپریشن کا مؤقف
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آ فریدی نے بھی حالیہ بیان میں کہا تھا کہ اگر دو یا تین دن میں تیراہ آپریشن نہ روکا گیا تو صوبائی حکومت نئی حکمت عملی اپنائے گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وفاق کی جانب سے نوٹیفکیشن میں شہریوں کو نقل مکانی کا کہا نہیں گیا اور مقامی لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر حرکت میں ہیں۔
غزہ بورڈ آف پیس کی منظوری پر وضاحت
احسن اقبال نے وفاقی حکومت کی جانب سے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کے معاملے پر بھی وضاحت دی۔ ان کے مطابق یہ معاہدے کابینہ کی منظوری کے ساتھ ہوتے ہیں اور وزیر اعظم نے تمام وزرا سے مشاورت کے بعد شمولیت کی منظوری دی تھی۔
ٹرمپ نے کینیڈا کو غزہ ‘بورڈ آف پیس’ میں شمولیت کی دعوت واپس لے لی
وفاقی وزیر کا مؤقف یہ ہے کہ وادی تیراہ سے نقل مکانی کی اصل وجوہات واضح ہونی چاہئیں اور صوبائی حکومت کو اپنے اقدامات کی وضاحت کرنی ہوگی۔ اس صورتحال سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ عوام کی حفاظت اور لا اینڈ آرڈ برقرار رکھنا کس حد تک ممکن ہے، اور صوبائی حکومت اپنے فرائض میں کس قدر کامیاب ہے۔
