تیراہ آپریشن پر وزیراعلیٰ کے پی کا دوٹوک مؤقف: نئی حکمتِ عملی کی وارننگ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وادیٔ تیراہ میں جاری آپریشن پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر آئندہ دو سے تین دن کے اندر یہ آپریشن نہ روکا گیا تو صوبائی حکومت ایک نئی حکمتِ عملی اختیار کرنے پر مجبور ہوگی۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تیراہ میں سکیورٹی صورتحال، نقل مکانی اور وفاق و صوبے کے درمیان بیانات کی جنگ جاری ہے۔

latest urdu news

سوات میں خطاب اور وفاقی نوٹیفکیشن پر سوال

سوات کے علاقے مینگورہ میں پاکستان تحریک انصاف کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج صبح وفاقی حکومت کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جس میں بظاہر تیراہ کے عوام کو علاقے سے نکلنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر لوگ علاقے سے نکل رہے ہیں تو کیا وہ شادی کی کسی تقریب میں جا رہے ہیں؟
ان کے مطابق زمینی حقائق اور سرکاری وضاحت میں واضح تضاد پایا جاتا ہے، جس سے عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔

آپریشن، الزامات اور نقل مکانی کا معاملہ

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ جب سیاسی طور پر انہیں کمزور نہیں کیا جا سکا تو دہشت گردی کے الزامات کا سہارا لیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تیراہ میں عوام کو نقل مکانی پر مجبور کیا گیا، ایک 24 رکنی کمیٹی پر دباؤ ڈالا گیا اور بالآخر حالات کو آپریشن تک لے جایا گیا۔ ان کے مطابق اس سارے عمل میں مقامی آبادی سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔

فوج، ادارے اور سیاسی مداخلت

انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ وہ یا ان کی جماعت فوج یا ریاستی اداروں کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلاف ان افراد سے ہے جو سیاست میں مداخلت کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ کے مطابق وہ ماضی میں فوجی جوانوں کے جنازوں میں شرکت کرتے رہے ہیں، تاہم اب انہیں ایسے مواقع پر نہ بلایا جاتا ہے اور نہ ہی اجازت دی جاتی ہے۔

عمران خان کی رہائی اور آئندہ لائحہ عمل

عمران خان کی رہائی کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ اس بار مکمل تیاری کے ساتھ اسلام آباد جائیں گے اور بانیٔ پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ ان کے بقول بعض عناصر اداروں اور صوبائی حکومت کے درمیان تصادم چاہتے ہیں، جو خطرناک رجحان ہے۔

وفاقی حکومت کا مؤقف

دوسری جانب وفاقی حکومت نے وادیٔ تیراہ کو فوجی احکامات پر خالی کرانے کی خبروں کو بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے ان کی تردید کی ہے۔ تاہم صورتحال بدستور سیاسی، انتظامی اور سکیورٹی سطح پر حساس بنی ہوئی ہے، جس پر آنے والے دنوں میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter