بنگلا دیش ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے باہر، آئی سی سی نے اسکاٹ لینڈ کو شامل کرنے کا اعلان

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

بھارت اور سری لنکا میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بنگلا دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کی ٹیم شامل ہوگی، پاکستان کرکٹ بورڈ میں تشویش کا اظہار

latest urdu news

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ بھارت اور سری لنکا میں شیڈول ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بنگلا دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کی ٹیم شامل ہوگی۔ یہ فیصلہ بنگلا دیش کی جانب سے میچز بھارت میں کھیلنے سے انکار اور میچز کو سری لنکا منتقل کرنے کے مطالبے کے بعد کیا گیا۔

آئی سی سی کا موقف اور مذاکرات

آئی سی سی کے مطابق اس معاملے پر تین ہفتوں سے زائد عرصے تک تفصیلی بات چیت کی گئی۔ بی سی بی (بنگلا دیش کرکٹ بورڈ) کے تحفظات کا ہر پہلو سے جائزہ لیا گیا اور تمام معاملات پر بات چیت کے بعد بی سی بی کو یقین دہانیاں بھی کرائی گئیں۔ تاہم بنگلا دیش کے بھارت میں میچ نہ کھیلنے کے فیصلے کی وجہ سے اسے ورلڈکپ میں حصہ لینے کا موقع نہیں ملا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی رائے

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلا دیش کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے اور وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شامل ہونا چاہیے۔ محسن نقوی نے کہا کہ بنگلا دیش آئی سی سی میں برابر کی حیثیت رکھتا ہے اور کسی ایک ملک کو ترجیح دینا غیر منصفانہ ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ دہرا معیار ظاہر کرتا ہے اور پاکستان اپنے موقف پر قائم رہے گا۔

بنگلادیش کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ نہ کھیلنے پر 27 ملین ڈالر کا مالی نقصان

چیئرمین پی سی بی نے مزید کہا کہ ورلڈ کپ میں پاکستان کی شرکت سے متعلق حتمی فیصلہ حکومت پاکستان کرے گی کیونکہ آئی سی سی کے مقابلے میں یہ فیصلہ حکومتی اختیار میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کے ملک میں واپس آنے کے بعد پلاننگ کے حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا اور اس کے بعد ہی پلان اے، بی اور سی تیار کیے جائیں گے۔

پس منظر

یہ معاملہ اس وقت پیدا ہوا جب بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے بھارت میں میچ کھیلنے سے انکار کیا اور ورلڈکپ کے میچز سری لنکا میں منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔ آئی سی سی نے معاملے کی طوالت اور بنگلا دیش کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسکاٹ لینڈ کو ٹیم میں شامل کرنے کا اعلان کیا، جس کے بعد عالمی کرکٹ شائقین اور حکام کے درمیان اس فیصلے پر بحث جاری ہے۔

یہ فیصلہ نہ صرف بنگلا دیش کی کرکٹ کمیونٹی میں تشویش پیدا کر رہا ہے بلکہ پاکستان سمیت دیگر ممالک کے بورڈز میں بھی اس کی سیاسی اور کھیلوں سے متعلق اثرات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter