کراچی کے دل دہلا دینے والے سانحہ گل پلازہ کے بعد میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے متاثرہ خاندانوں کے گھروں کا دورہ کیا اور لواحقین سے ملاقات میں تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے واضح کیا کہ شہر کی انتظامیہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور اس المیے کے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتی ہے اور تمام دستیاب وسائل اسی مقصد کے لیے بروئے کار لائے جائیں گے۔
متاثرین کے گھروں کا دورہ اور حکومتی یقین دہانی
میئر کراچی نے متاثرین کے اہلِ خانہ سے ملاقات کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ مرتضیٰ وہاب کے مطابق انتظامیہ نہ صرف فوری امدادی اقدامات کر رہی ہے بلکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی سنجیدہ اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے دکھ پر سیاست کرنا بدقسمتی ہے، اس لیے اس سانحے کو سیاسی نعروں کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا اعلان
مرتضیٰ وہاب نے واضح کیا کہ گل پلازہ سانحے کے ذمہ دار عناصر کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا۔ ان کے مطابق تحقیقات کو شفاف اور غیرجانب دار رکھا جائے گا تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عمارتوں کی حفاظت اور فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ناگزیر ہے، کیونکہ شہریوں کی جانوں سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
گل پلازہ سانحہ: اموات 67 تک پہنچ گئیں، 77 افراد اب بھی لاپتہ
سانحے کا پس منظر اور جانی نقصان
واضح رہے کہ کراچی میں گزشتہ ہفتے 17 جنوری کی رات شہر کے مشہور گل پلازہ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ کی شدت کے باعث عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور درجنوں افراد جاں بحق ہو گئے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سُمعیہ طارق کے مطابق اب تک 71 لاشیں اور انسانی باقیات اسپتال منتقل کی جا چکی ہیں۔ ان میں سے 22 جاں بحق افراد کی شناخت مکمل ہو چکی ہے، جن میں 6 لاشیں قابلِ شناخت تھیں جبکہ 15 افراد کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ممکن ہوئی۔
آگے کا لائحہ عمل
سانحہ گل پلازہ نے ایک بار پھر شہری عمارتوں میں حفاظتی انتظامات پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے واقعات سے بچنے کے لیے قوانین پر سختی سے عملدرآمد، باقاعدہ معائنہ اور ہنگامی سہولیات کی دستیابی ناگزیر ہے۔ میئر کراچی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اس سانحے سے سبق سیکھتے ہوئے آئندہ کے لیے ٹھوس اقدامات کرے گی تاکہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
