امریکی ریاست منی سوٹا میں امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ، ایک اور ہلاکت کے بعد کشیدگی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر منی ایپولس میں امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ سے ایک اور شخص کے ہلاک ہونے کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق یہ فائرنگ امیگریشن اینڈ کسٹم انفورسمنٹ (ICE) کے ایک ایجنٹ کی جانب سے کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ واقعے کے بعد نہ صرف مقامی سطح پر احتجاج شروع ہو گیا بلکہ ریاستی قیادت نے بھی وفاقی حکومت پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔

latest urdu news

واقعے کی تفصیلات اور سرکاری ردعمل

ابتدائی اطلاعات کے مطابق منی ایپولس میں پیش آنے والا یہ واقعہ امیگریشن کارروائی کے دوران پیش آیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ منی سوٹا کے گورنر ٹم والز نے اس واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وفاقی ایجنٹ کی فائرنگ کے ایک اور ہولناک واقعے پر وائٹ ہاؤس سے بات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات ریاست میں خوف اور عدم تحفظ کو بڑھا رہے ہیں۔

گورنر کی ٹرمپ انتظامیہ سے اپیل

گورنر ٹم والز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر امیگریشن آپریشنز بند کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہزاروں پُرتشدد اور غیر تربیت یافتہ امیگریشن افسران کو منی سوٹا سے واپس بلایا جائے۔ ان کے مطابق، ریاست میں جاری امیگریشن کارروائیاں نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن رہی ہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں۔

عوامی احتجاج اور جھڑپیں

فائرنگ کے واقعے کے بعد منی ایپولس میں شہریوں نے احتجاج شروع کر دیا۔ مظاہرین نے امیگریشن اینڈ کسٹم انفورسمنٹ کے آپریشنز روکنے کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کے دوران سکیورٹی اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے صورتحال قابو میں رکھنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ اس کشیدہ صورتحال نے شہر میں خوف اور بے چینی کی فضا کو مزید گہرا کر دیا۔

ماضی کا پس منظر

یہ پہلا موقع نہیں کہ منی ایپولس میں امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہو۔ یاد رہے کہ 7 جنوری کو بھی اسی شہر میں امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ سے 37 سالہ خاتون رینی گڈ ہلاک ہو گئی تھیں۔ ان مسلسل واقعات نے امریکا میں امیگریشن پالیسیوں، نفاذ کے طریقۂ کار اور شہری تحفظ کے حوالے سے ایک بار پھر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter