صوبے کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے چلا گیا، پانی اور گیس کی فراہمی بھی متاثر ہونے لگی۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے متعدد علاقوں میں خون جماتی سردی نے شہریوں کے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ شدید سردی کے باعث نہ صرف روزمرہ سرگرمیاں محدود ہو گئی ہیں بلکہ بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ خاص طور پر کوئٹہ، قلات اور زیارت جیسے سرد علاقوں میں سردی کی شدت غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہے۔
درجہ حرارت منفی سطح پر پہنچ گیا
محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ میں آج کم سے کم درجہ حرارت منفی 5 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ قلات میں منفی 8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو رواں موسمِ سرما کے سرد ترین دنوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح صوبے کے دیگر علاقوں میں بھی درجہ حرارت خاصا کم رہا، جہاں سبی میں کم سے کم درجہ حرارت 5، گوادر میں 6 اور تربت میں 9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
پانی جم گیا، شہریوں کو شدید مشکلات
شدید سردی کے باعث کوئٹہ، قلات اور زیارت میں سڑکوں پر کھڑا پانی جم گیا ہے، جس سے ٹریفک اور پیدل آمدورفت متاثر ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ گھروں کی پانی کی ٹینکیوں اور سپلائی لائنوں میں بھی پانی جم جانے کی اطلاعات ہیں، جس کے باعث شہریوں کو روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ سرد علاقوں میں اس طرح کے مسائل عام طور پر اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب درجہ حرارت مسلسل نقطۂ انجماد سے نیچے رہے۔
خیبر پختونخوا میں سردی اور بارش کی شدت میں اضافہ
گیس پریشر میں کمی کا مسئلہ برقرار
سخت سردی کے ساتھ ساتھ زیارت اور قلات میں گیس پریشر میں کمی کا مسئلہ بھی بدستور برقرار ہے۔ کم گیس پریشر کے باعث گھریلو صارفین کو کھانا پکانے اور گھروں کو گرم رکھنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ سرد موسم میں گیس کی طلب بڑھنے اور ترسیلی نظام پر دباؤ کے باعث یہ مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔
دیگر علاقوں کا موسم اور آئندہ کی صورتحال
دوسری جانب کراچی میں کم سے کم درجہ حرارت 8.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 22 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 48 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے یہ بھی پیش گوئی کی ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں آج سے شدید بارشوں اور برفباری کا نیا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے، جس سے سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
