نجی یونیورسٹیوں کے طلبہ بھی لیپ ٹاپ اسکیم میں شامل

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

تعلیم کے عالمی دن کے موقع پر پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے نجی یونیورسٹیوں کے طلبہ کے لیے ایک بڑی خوشخبری سنا دی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ پنجاب میں اب نجی شعبے کی جامعات میں زیرِ تعلیم طلبہ کو بھی لیپ ٹاپ اسکیم میں شامل کیا جائے گا۔ اس فیصلے کو تعلیمی حلقوں میں ایک اہم اور تاریخی اقدام قرار دیا جا رہا ہے، جس سے ہزاروں طلبہ براہِ راست مستفید ہوں گے۔

latest urdu news

لاہور میں جاری ایک بیان اور ویڈیو پیغام میں وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے بتایا کہ یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی ہدایت پر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کے فروغ اور طلبہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے یہ ضروری تھا کہ سرکاری جامعات کے ساتھ ساتھ نجی یونیورسٹیوں کے طلبہ کو بھی یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نجی یونیورسٹیوں کے طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ اسکیم میں اپلائی کرنے کا پورٹل جلد کھول دیا جائے گا۔

وزیر تعلیم نے مزید بتایا کہ نجی یونیورسٹیوں کے طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ اسکیم کا معیار (کریٹیریا) وہی ہوگا جو سرکاری جامعات کے طلبہ کے لیے مقرر کیا گیا ہے، تاکہ شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 77 برسوں میں نجی تعلیمی اداروں کے طلبہ کو کسی بھی سرکاری اسکیم میں شامل نہیں کیا گیا، جبکہ پچھلے چار برسوں کے دوران لیپ ٹاپ یا اسکالرشپ جیسی سہولتیں بھی فراہم نہیں کی گئیں۔

وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم 2025: طلبا کے لیے بڑی خبر

رانا سکندر حیات نے کہا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلے ہی سال سرکاری جامعات کے طلبہ کو تعلیمی سہولتیں فراہم کیں اور اب دوسرے سال میں نجی یونیورسٹیوں کے طلبہ کو بھی ایجوکیشن سپورٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ حکومت تعلیم کو حقیقی معنوں میں ترجیح دے رہی ہے۔

اپنے ویڈیو پیغام میں وزیر تعلیم نے کہا کہ تعلیم کے عالمی دن پر لیپ ٹاپ اسکیم کا اعلان نجی یونیورسٹیوں کے طلبہ کے لیے ایک بڑا تحفہ ہے، جو نہ صرف ان کی تعلیمی سرگرمیوں میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ ڈیجیٹل لرننگ، ریسرچ اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کو بھی ممکن بنائے گا۔

تعلیمی ماہرین اور طلبہ نے اس اعلان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار بہتر ہوگا اور سرکاری و نجی اداروں کے درمیان موجود فرق بھی کم ہو سکے گا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter