مرحومہ والدہ کی یاد میں نظم سناتے ہوئے عمران عباس آبدیدہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار عمران عباس اپنی مرحومہ والدہ کی یاد میں لکھی گئی نظم سناتے ہوئے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آبدیدہ ہو گئے۔ یہ روح پرور اور دل کو چھو لینے والا منظر اسلام آباد میں منعقد ہونے والی معروف ادبی تقریب ’جشنِ جون ایلیا‘ کے دوران دیکھنے میں آیا، جہاں اداکار کی آواز لڑکھڑا گئی اور آنکھیں نم ہو گئیں۔

latest urdu news

تقریب کی ویڈیوز عمران عباس نے خود اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کیں، جو دیکھتے ہی دیکھتے مداحوں میں وائرل ہو گئیں۔ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عمران عباس اپنی والدہ کے انتقال کے بعد پہلی عید پر لکھی گئی نظم حاضرین کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ نظم کے اشعار نہ صرف اداکار کے ذاتی دکھ اور محرومی کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ ماں جیسی عظیم ہستی کی جدائی کے کرب کو بھی نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں بیان کرتے ہیں۔

نظم سناتے ہوئے عمران عباس کئی مقامات پر رک گئے، ان کی آواز بھرا گئی اور آنسو چھلک پڑے۔ اس موقع پر محفل میں موجود افراد بھی جذباتی ہو گئے اور خاموشی کے ساتھ اس درد بھرے لمحے کا حصہ بنے رہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے بھی اس نظم کو دل سے نکلا ہوا درد قرار دیتے ہوئے اداکار کے حوصلے اور سچائی کی تعریف کی۔

عمران عباس نے انسٹاگرام پر ایک جذباتی پیغام بھی شیئر کیا، جس میں انہوں نے مداحوں کی جانب سے ملنے والی محبت اور خلوص کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نظم انہوں نے اپنی والدہ کے انتقال کے بعد پہلی عید پر لکھی تھی، اور آج اسے لوگوں کے سامنے پیش کرنا ان کے لیے نہایت مشکل مگر ضروری تھا۔ اداکار نے لکھا کہ دل کی گہرائیوں سے ملنے والی محبت اور تعریف ان کے لیے باعثِ حوصلہ ہے۔

نظم کے اشعار میں ماں کے لمس، دعا، شفقت اور تحفظ کی کمی کو جس انداز میں بیان کیا گیا، اس نے سننے والوں کے دلوں کو چھو لیا۔ اشعار میں ماں کے عیدی دینے والے ہاتھ، نظر اتارنے کی دعا اور سرد ہاتھوں کا ذکر ایک گہرے خلا کی تصویر پیش کرتا ہے جو ماں کی جدائی کے بعد ہر اولاد محسوس کرتی ہے۔

اپنے پیغام کے آخر میں عمران عباس نے عاجزی کے ساتھ مداحوں سے درخواست کی کہ وہ ان کی مرحوم والدہ، والد اور بہن کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام زندہ والدین کو صحت اور لمبی عمر عطا فرمائے اور جو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔

یہ جذباتی لمحہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی بنا کہ شہرت اور کامیابی کے باوجود فنکار بھی عام انسانوں کی طرح دکھ، جدائی اور یادوں کے بوجھ تلے جیتے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter