پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن نے غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت پر احتجاج کیا، جبکہ حکومت نے بورڈ میں شمولیت کے فیصلے کا دفاع کیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر علامہ راجہ ناصرعباس نے کہا کہ جو کام اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نہ کر سکے، وہ اب امن بورڈ کے نام پر شروع ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو بورڈ کے نکات اور فیصلوں کے بارے میں کوئی آگاہی نہیں دی گئی اور اتفاق رائے کے بغیر پاکستان کو اس فورم کا حصہ بنایا گیا۔
مولانا فضل الرحمن نے بھی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کی جارحیت کو تقویت دے رہا ہے اور حماس کو دھمکیاں دے رہا ہے، اور پاکستان ایسے فورم میں شامل ہو رہا ہے جس کا آغاز ہی دھمکیوں اور یکطرفہ دباؤ سے ہوا ہے۔
انہوں نے وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امن بورڈ میں شمولیت کے فیصلے پر نہ تو پارلیمنٹ کو اور نہ ہی کابینہ کو اعتماد میں لیا گیا۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ یہ اقدام ملکی خارجہ پالیسی اور پاکستان کے موقف کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، اور ایسے عالمی فورمز میں شمولیت کے لیے شفافیت اور پارلیمانی مشاورت ضروری ہے۔
غزہ امن بورڈ میں شمولیت فلسطینیوں پر مظالم رکوانے کی کوشش ہے، احسن اقبال
حکومتی ترجمان نے اس موقف کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا امن بورڈ میں شامل ہونا فلسطینی عوام کے حق میں عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو مضبوط کرنے کے لیے کیا گیا اقدام ہے۔
