وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے قومی اسمبلی میں ڈومیسٹک وائلنس بل میں ترمیم کے موقع پر ایک غیر معمولی اور دلچسپ رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرد بھی معاشرے میں خاصے مظلوم ہیں اور گھروں کے اندر بہت کچھ برداشت کرتے ہیں، مگر عموماً اس پر بات نہیں کرتے۔ ان کے اس بیان نے ایوان کے ماحول کو سنجیدگی کے ساتھ ساتھ خوشگوار بھی بنا دیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران طلال چوہدری نے واضح کیا کہ وہ ڈومیسٹک وائلنس بل کی مخالفت نہیں کر رہے، بلکہ اس بات کو سراہتے ہیں کہ پہلی مرتبہ اس قانون میں مردوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گھریلو تشدد کو صرف ایک طبقے تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات مرد بھی گھریلو دباؤ اور ذہنی اذیت کا سامنا کرتے ہیں، مگر سماجی دباؤ کے باعث خاموشی اختیار کیے رکھتے ہیں۔
طلال چوہدری کے اس جملے پر ایوان میں قہقہے بلند ہوئے اور کئی ارکان نے مسکراتے ہوئے اس تبصرے کو غیر روایتی مگر توجہ طلب قرار دیا۔ بعض اراکین کا کہنا تھا کہ یہ بیان اگرچہ ہلکے پھلکے انداز میں دیا گیا، مگر اس کے پیچھے ایک سنجیدہ سماجی حقیقت موجود ہے جس پر بات ہونا ضروری ہے۔
بانی پی ٹی آئی جتنا انتشار ہوگا پاکستان اتنا کمزور ہوگا، یہی سوچ رکھتا ہے: طلال چوہدری
واضح رہے کہ ڈومیسٹک وائلنس بل میں ترمیم جمعیت علمائے اسلام (ف) کی رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران کی جانب سے پیش کی گئی۔ ترمیم شدہ بل کا مقصد گھریلو تشدد کے خلاف ایک جامع قانونی فریم ورک فراہم کرنا ہے، جس کے تحت خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں، بچوں، کمزور افراد اور مخنث افراد کو بھی تحفظ دیا جا سکے گا۔
بل کے محرکین کے مطابق اس قانون کا بنیادی مقصد گھریلو تشدد کے تمام متاثرین کو بلا تفریق انصاف اور قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے، تاکہ تشدد کا شکار کوئی بھی فرد خود کو تنہا محسوس نہ کرے۔ ایوان میں اس بل پر مزید بحث جاری ہے، جبکہ مختلف سیاسی جماعتیں اس کے سماجی اثرات پر اپنی آرا کا اظہار کر رہی ہیں۔
