وفاقی ادارہ برائے محصولات (ایف بی آر) کی جانب سے استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد سے متعلق صارفین کے لیے ایک اہم ریلیف سامنے آیا ہے۔ ایف بی آر کسٹمز ویلیوایشن نے بیرونِ ملک سے درآمد کیے جانے والے پرانے موبائل فونز کی نظرثانی شدہ کسٹم ویلیو جاری کر دی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے تحت عائد ٹیکس میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔
نئی ویلیوایشن کے مطابق چار بڑے موبائل فون برانڈز کے مجموعی طور پر 62 ماڈلز پر کسٹمز اور پی ٹی اے ٹیکس کم ہو جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان نئے اور کم ریٹس کا براہِ راست فائدہ صارفین کو پہنچے گا، کیونکہ استعمال شدہ موبائل فونز کی مجموعی قیمت میں واضح کمی متوقع ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو بیرونِ ملک سے فون منگواتے یا خود ساتھ لاتے ہیں۔
کسٹمز ویلیوایشن حکام کے مطابق ایک معروف بین الاقوامی موبائل فون برانڈ کے مختلف ماڈلز کی کسٹمز ویلیو میں 32 فیصد سے لے کر 89 فیصد تک کمی کی گئی ہے۔ دیگر بڑے برانڈز کے فونز کی ویلیو میں بھی خاطر خواہ کمی کی گئی ہے، تاکہ زمینی حقائق اور عالمی مارکیٹ ویلیو سے ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔
حکام کا مزید کہنا ہے کہ سابقہ طریقہ کار کے تحت استعمال شدہ موبائل فونز کی قیمتیں اکثر بڑھا چڑھا کر ظاہر کی جاتی تھیں، جبکہ انڈر انوائسنگ اور فونز کی گریڈنگ کے مسائل بھی درپیش تھے۔ ان وجوہات کی بنا پر کسٹمز کلیئرنس میں غیر ضروری تاخیر ہوتی تھی، جس کا مالی اور ذہنی بوجھ بالآخر صارفین پر پڑتا تھا۔
’سونا، ہیرے اور شان و شوکت‘، دنیا کے مہنگے ترین موبائل فونز جن کی قیمت سن کر آپ حیران رہ جائیں گے
نظرثانی شدہ ویلیوایشن کا مقصد نہ صرف درآمدی عمل کو شفاف بنانا ہے بلکہ صارفین کو غیر ضروری ٹیکس بوجھ سے بھی نجات دلانا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے موبائل فون مارکیٹ میں استحکام آئے گا اور غیر قانونی یا غیر رجسٹرڈ فونز کے رجحان میں بھی کمی متوقع ہے۔
واضح رہے کہ پی ٹی اے گزشتہ برسوں کے دوران غیر رجسٹرڈ موبائل فونز کے خلاف سخت اقدامات کر چکا ہے اور گزشتہ مالی سال کے دوران بڑی تعداد میں موبائل فونز بلاک کیے گئے تھے۔ دوسری جانب پی ٹی اے نے موبائل فون ڈیوائسز کی رجسٹریشن کے ذریعے گزشتہ 6 سال میں مجموعی طور پر 83 ارب روپے سے زائد ٹیکس بھی جمع کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق کسٹمز ویلیو میں حالیہ کمی صارف دوست اقدام ہے، جس سے نہ صرف موبائل فونز کی قانونی درآمد میں اضافہ ہوگا بلکہ عام صارف کے لیے جدید ٹیکنالوجی تک رسائی بھی نسبتاً آسان ہو جائے گی۔
