ملک کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری نے نظام زندگی کو مفلوج کر دیا ہے اور مختلف علاقوں میں زمینی رابطے منقطع ہو گئے ہیں، جس سے مقامی باشندے اور سیاح محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ مختلف حادثات میں دو افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
بلوچستان کے شمالی علاقوں میں جاری برفانی طوفان کے باعث زیارت جانے والی درجنوں گاڑیاں کوئٹہ-زیارت شاہراہ پر پھنس گئیں، اور چمن کے گردونواح میں 100 سے زائد سیاح گاڑیوں میں محصور ہیں۔ این-50 شاہراہ پر شدید پھسلن اور برفباری کے باعث 9 حادثات ہوئے جن میں 27 افراد زخمی ہوئے۔ کوژک ٹاپ پر درجہ حرارت منفی 12 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔
مری میں 20 انچ تک برفباری متوقع، پنجاب حکومت کی ہنگامی ہدایات جاری
خیبرپختونخوا کے اضلاع مانسہرہ، گلیات، شانگلہ، لوئر دیر، مہمند، کالام، اورکزئی، چترال اور خیبر میں بھی شدید برفباری ہوئی۔ وادی تیراہ میں تقریباً 100 گاڑیاں پھنس گئیں، جن میں سے 35 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ شانگلہ میں برفباری کے بعد بجلی کا نظام متاثر ہوا جبکہ چترال میں متعدد رابطہ سڑکیں بند ہو گئیں۔
گلگت بلتستان کے ضلع استور میں بالائی علاقوں میں دو سے تین فٹ برفباری ریکارڈ کی گئی، جس سے زمینی رابطے منقطع ہو گئے اور لوگ گھروں میں محصور ہیں۔ ہنزہ، نگر اور چیپورسن میں بھی برفباری ہوئی جبکہ چلاس، بابوسر ٹاپ، نانگا پربت، بٹوگاہ، داریل اور تانگیر میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا۔
آزاد کشمیر کے بالائی علاقوں میں وقفے وقفے سے برفباری جاری ہے، جس سے مری ایکسپریس وے جزوی طور پر بند ہو گئی ہے۔
ریسکیو1122 ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وادی تیراہ میں تقریباً 20 گاڑیوں میں سوار 55 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا، اور باڑہ بٹہ تل میں مکان کا کمرہ گرنے کے واقعے میں 5 افراد کو ملبے تلے سے نکال کر طبی امداد فراہم کی گئی۔
شدید برفباری اور سردی کی وجہ سے عوام کو محفوظ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے اور ریسکیو ٹیمیں متاثرین کی مدد کے لیے دن رات سرگرم ہیں۔
