وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا وفاقی حکومت پر سخت تنقید

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو گزشتہ 90 دنوں سے زائد عرصے سے مسلسل تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، جو بنیادی انسانی حقوق اور آئینی تقاضوں کے منافی ہے۔

latest urdu news

انہوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو ملاقاتوں سے روکنے اور الگ تھلگ رکھنے کے عمل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔

صوبائی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وفاقی طرزِ حکمرانی جمہوری اقدار کے بجائے آمریت کی عکاسی کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی پالیسیاں اپنائی جارہی ہیں جنہوں نے ماضی کی تمام مثالیں پیچھے چھوڑ دی ہیں۔ سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا کے ساتھ مسلسل امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے اور صوبے کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا جارہا ہے۔

حکومت کی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرانے کی کوشش: رپورٹ عدالت میں پیش

انہوں نے شیڈول فور میں شامل سیاسی کارکنان کا معاملہ بھی اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان فہرستوں پر نظرِ ثانی کی جائے اور بے گناہ افراد کو ریلیف فراہم کیا جائے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق سیاسی بنیادوں پر کارکنان کو ہراساں کرنا جمہوری نظام کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

کراچی میں نمائش چورنگی پر مختصر خطاب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے وفاقی ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر پر بھی کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ناردرن بائی پاس منصوبہ 2010 سے التوا کا شکار ہے، جس کی لاگت ابتدائی طور پر 3 ارب روپے تھی، جو اب بڑھ کر 31 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، مگر اس کے باوجود منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہوسکا۔

وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ 8 فروری کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے صوبائی اسمبلی میں ایک خصوصی کمیٹی قائم کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں صوبائی ملازمین کو طلب کرکے شفاف تحقیقات کی جائیں گی تاکہ حقائق عوام کے سامنے لائے جاسکیں۔

سہیل آفریدی نے وفاق کی جانب سے ٹی ڈی پیز (عارضی طور پر بے گھر افراد) کے لیے وعدہ شدہ فنڈز کی عدم فراہمی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اب تک 7.5 ارب روپے اپنے وسائل سے خرچ کرچکی ہے، جبکہ وفاقی سطح پر قرضے 43 ہزار ارب سے بڑھ کر 80 ہزار ارب روپے تک جا پہنچے ہیں۔ ان کے مطابق بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری کے باعث نوجوان روزگار کی تلاش میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے مزید بتایا کہ ریڈیو پاکستان واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے صوبائی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے، جو تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter