گل پلازہ کے صدر تاجر ایسوسی ایشن تنویر پاستا نے سانحہ کے بعد پلازہ کی بجلی بند کرنے کی وجہ واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام عوامی تحفظ کے لیے کیا گیا تھا۔ تنویر پاستا نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ مارکیٹ کے تمام راستے بند نہیں تھے اور ایمرجنسی ریمپ بھی کھلا تھا۔ علاوہ ازیں، مسجد سے باہر نکلنے کے دو راستے بھی عوام کے لیے دستیاب تھے۔
تنویر پاستا نے کہا، "گل پلازہ کی بجلی احتیاطاً بند کی گئی تاکہ جو لوگ اندر موجود تھے وہ محفوظ طریقے سے باہر نکل سکیں۔ اگر بجلی بند نہ کی جاتی تو باہر نکلنے والے بھی خطرے میں پڑ سکتے تھے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدام کسی بھی قسم کی لاپرواہی کے بغیر عوام کی حفاظت کے لیے کیا گیا۔
دوسری جانب حکام نے سانحہ کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ متاثرہ لاشوں کے سیمپلز کا کیمیکل ایگزامینیشن کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ عمارت میں ممکنہ کیمیکل کے اثرات کا تعین کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق، لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے یہ معلوم کیا جائے گا کہ آگ کی تیزی سے پھیلنے کی وجہ کیا تھی اور آیا کسی کیمیائی مادے کی موجودگی نے آگ کی شدت میں اضافہ کیا۔
گل پلازہ کی ایک دن سے 30 لاشیں برآمد، جاں بحق افراد کی تعداد 61 تک جا پہنچی
سانحہ گل پلازہ میں اب تک 61 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 86 افراد لاپتا ہیں۔ تاجر ایسوسی ایشن اور حکام نے متاثرین کے اہل خانہ کے لیے امدادی اقدامات شروع کر دیے ہیں اور لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔ تنویر پاستا نے بھی عوام سے اپیل کی کہ وہ اس المناک حادثے کے بعد تحمل اور صبر کا مظاہرہ کریں اور متاثرین کی مدد کے لیے تعاون کریں۔
اگر آپ چاہیں تو میں اس خبر کو مزید dramatic اور urgent انداز میں، headline-catching نیوز پورٹل اسٹائل میں بھی دوبارہ لکھ سکتا ہوں تاکہ پڑھنے والے فوراً متاثر ہو۔ کیا میں وہ ورژن بھی بنا دوں؟
