اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی دو روزہ حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں عارضی ریلیف فراہم کر دیا ہے۔ عدالت نے دونوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دو دن کے اندر اندر متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کریں۔
جسٹس اعظم خان نے درخواستوں پر سماعت کے دوران حکم دیا کہ حفاظتی ضمانت کی مدت کے دوران ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گرفتار نہ کیا جائے۔ عدالت نے دونوں درخواست گزاروں کو دس، دس ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کی بھی ہدایت کی۔
سماعت کے دوران مؤقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزاروں کے خلاف ایف آئی آر لیک کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جس کے باعث گرفتاری کا خدشہ لاحق تھا۔ اسی بنیاد پر ہائیکورٹ سے حفاظتی ضمانت کی استدعا کی گئی۔
عدالت عالیہ نے ابتدائی سماعت کے بعد واضح کیا کہ یہ ریلیف عبوری نوعیت کا ہے اور اصل معاملے پر فیصلہ متعلقہ ٹرائل کورٹ ہی کرے گی۔
متنازعہ ٹویٹ کیس: ایمان مزاری اور شوہر ہادی علی چٹھہ پر فردِ جرم عائد
دوسری جانب ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف نئی ایف آئی آر سامنے آنے کے بعد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں قائم لیگل برانچ کو تالا لگا دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق لیگل برانچ کے عملے پر ایف آئی آر لیک کرنے کا الزام ہے، جس پر پولیس کے سینئر افسران کی ہدایت پر یہ اقدام کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف مذکورہ ایف آئی آر جولائی میں درج کی گئی تھی، تاہم اس وقت اس میں ضمانت حاصل نہیں کی گئی تھی۔ نئی ایف آئی آر سامنے آنے کے بعد دونوں نے حفاظتی ضمانت کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور گزشتہ روز سے عدالت میں موجود تھے۔
قانونی ماہرین کے مطابق ہائیکورٹ کا حالیہ حکم وقتی نوعیت کا ہے اور آئندہ چند روز میں متعلقہ عدالت میں ضمانت کی درخواست پر سماعت کے بعد کیس میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔
