جیکب آباد میں پولیس حراست کے دوران مبینہ اجتماعی زیادتی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پولیس حراست میں ایک لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کے سنگین واقعے کی تحقیقات کے لیے کیس وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

latest urdu news

عدالتی ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر واقعے میں ملوث 6 گرفتار پولیس اہلکاروں کو جیکب آباد کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے انہیں دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کرنے کی اجازت دے دی۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ریمانڈ کے دوران تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جائیں گی۔

ایس ایس پی جیکب آباد کے مطابق اس مقدمے میں دو تھانے داروں، مقصود سنجرانی اور نواز بروہی، کو بھی تفتیش میں شامل کر لیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں کسی قسم کی غفلت یا اختیارات کے ناجائز استعمال کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ جیکب آباد کے تھانہ آر ڈی 52 کے ایس ایچ او سمیت مجموعی طور پر 7 پولیس اہلکاروں پر لڑکی سے مبینہ زیادتی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ واقعہ سامنے آنے کے بعد صوبے بھر میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا، جس پر وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے فوری طور پر واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

حکام کے مطابق متاثرہ لڑکی کو قانونی اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ کیس کی حساس نوعیت کے پیش نظر تحقیقات اعلیٰ سطح پر منتقل کی گئی ہیں۔ ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر الزامات ثابت ہوئے تو ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

واقعے نے ایک بار پھر قانون نافذ کرنے والے اداروں میں احتساب اور اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے، جبکہ حکام کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter