سانحہ گل پلازہ پر عالمی سطح پر ردِعمل سامنے آنا شروع ہو گیا ہے، جہاں سعودی عرب، امریکا اور چین نے افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ تینوں ممالک کی جانب سے جاں بحق افراد کے لواحقین اور پاکستان کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا پیغام دیا گیا ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے جاری بیان میں گل پلازہ حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ سعودی حکام نے متاثرہ خاندانوں، حکومتِ پاکستان اور عوام کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے صبر و استقامت کی دعا کی۔ بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب اس مشکل گھڑی میں پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
امریکی قونصل خانے نے بھی سانحہ گل پلازہ پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکا جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کا شریک ہے۔ امریکی قونصل خانے نے ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے والے اہلکاروں اور فائر فائٹرز کی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں۔
چینی قونصلیٹ جنرل کی جانب سے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ چینی حکام نے سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کی اور زخمیوں کے لیے نیک تمناؤں اور جلد صحت یابی کی دعا کی۔ بیان میں کہا گیا کہ چین اس مشکل وقت میں پاکستان کے عوام کے دکھ میں شریک ہے۔
سانحہ گل پلازہ پر سیاست عجیب ہے، نیوزی لینڈ کی آگ کی مثال دی: شہلا رضا
واضح رہے کہ سانحہ گل پلازہ میں اب تک 28 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ 17 لاشیں تاحال ناقابلِ شناخت ہیں۔ شناخت کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے 50 خاندانوں کے ڈی این اے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں، جن کی مدد سے لاشوں کی شناخت کی جا رہی ہے۔
فائر آفیسر کے مطابق تہہ خانے کے اوپن ایریا کی مکمل تلاشی لی جا چکی ہے، جہاں سے کوئی لاش برآمد نہیں ہوئی، تاہم تہہ خانے کا ایک حصہ جو ملبے تلے دبا ہوا ہے، اس کی تلاش ابھی باقی ہے۔ اس کے علاوہ عمارت کے دوسرے اور تیسرے فلور کو کلیئر قرار دے دیا گیا ہے۔
دوسری جانب سانحہ گل پلازہ کی وجوہات جاننے کے لیے قائم کی گئی تحقیقاتی کمیٹی نے باقاعدہ طور پر کام شروع کر دیا ہے، جو حادثے کے محرکات اور ذمہ داران کا تعین کرے گی۔
