میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے گل پلازہ کی عمارت سے متعلق تازہ ترین صورتحال بتاتے ہوئے کہا ہے کہ عمارت کا تقریباً دو تہائی حصہ کلیئر کر لیا گیا ہے اور مزید لاشیں نہیں ملی ہیں۔ تاہم لاشوں کی شناخت کا عمل ابھی جاری ہے، اور حتمی تعداد کا اعلان صبح کیا جائے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی عمارت کا جائزہ لے رہی ہے اور ریسکیو آپریشن تقریباً 70 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ پہلے اور دوسرے فلور کو کلیئر کر لیا گیا ہے، لیکن 81 افراد کے لاپتہ ہونے کی شکایات موصول ہوئی ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔
میئر کراچی نے اس موقع پر شہریوں کو خبردار کیا کہ عمارتوں میں فائر سیفٹی سسٹم لازمی نصب ہونا چاہیے تاکہ ایسے المناک حادثات دوبارہ نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حادثات کے بعد احتیاطی اقدامات اور فائر سیفٹی کے معیار کو سختی سے یقینی بنایا جانا چاہیے۔
سانحہ گل پلازہ: لواحقین کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا اعلان
دوسری جانب گل پلازہ کے حادثے کے اثرات کے پیشِ نظر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے رمپا پلازہ کو غیر محفوظ قرار دے دیا ہے۔ ایس بی سی اے کے مطابق گل پلازہ کے ملبے کے سبب رمپا پلازہ کے ستون متاثر ہوئے ہیں، اور اس کے خطرناک حصے کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ انتظامیہ اور دکان مالکان کو نوٹس بھی جاری کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی مزید حادثے سے بچا جا سکے۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ شہر کی عمارتوں میں فائر سیفٹی کا نظام مؤثر اور فعال ہونا شہری زندگی کی حفاظت کے لیے ناگزیر ہے، اور حکومت شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔
