اسلام آباد: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک غلط کلک یا غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل سنگین قانونی نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ ایجنسی نے عوام کے لیے خصوصی آگاہی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوسٹ، خبر یا لنک شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق لازمی ہے، کیونکہ بغیر تحقیق مواد کو پھیلانا قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
NCCIA نے واضح کیا کہ اعلیٰ عدلیہ، ریاستی اداروں یا دیگر حساس شعبوں کے خلاف غیر مصدقہ معلومات یا جھوٹی خبریں پھیلانا قابلِ تعزیر جرم ہے۔ ایجنسی کے مطابق پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ (PECA) کے سیکشن 26A کے تحت جھوٹی خبریں یا نفرت انگیز مواد پھیلانے پر تین سال تک قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
ایڈوائزری میں عوام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر باخبر اور ذمہ دار رویہ اپنائیں اور فیک نیوز، افواہوں یا نفرت انگیز مواد سے مکمل اجتناب کریں۔ NCCIA کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا کو محفوظ بنانے کے لیے ہر شہری کا محتاط اور ذمہ دارانہ رویہ ضروری ہے۔
راولپنڈی میں نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کا افسر مبینہ طور پر اغواء
ایجنسی نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے نہ صرف قانونی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں بلکہ سماجی انتشار اور افواہوں کے پھیلاؤ کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اس لیے شہریوں کو چاہیے کہ معلومات کی تصدیق کیے بغیر اسے آگے نہ بڑھائیں اور آن لائن رویے میں اخلاقیات اور قانون کا خیال رکھیں۔
NCCIA کا یہ انتباہ خاص طور پر نوجوانوں اور سوشل میڈیا صارفین کے لیے اہم ہے تاکہ ایک غلط کلک کے نتیجے میں سنگین قانونی اقدامات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
