پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شہلا رضا نے سانحہ گل پلازہ پر قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض اوقات ایک واقعے کو بنیاد بنا کر غیر متعلقہ موضوعات پر بات کرنا عجیب ہوتا ہے۔
شہلا رضا نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ میں جب آگ لگی تو 40 افراد جان سے گئے، لیکن وہاں اس پر کوئی سیاسی مباحثہ یا ہنگامہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاہور میں حفیظ سنٹر میں تین مرتبہ آگ لگ چکی ہے، مگر وہاں بھی اس پر سیاست نہیں کی گئی۔ شہلا رضا کا کہنا تھا کہ "یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے”۔
انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ کے بعد 18ویں ترمیم اور بنیادی تعلیم جیسے موضوعات تک بات پہنچ گئی، جو کہ اصل واقعے سے غیر متعلق ہیں۔ شہلا رضا نے اس بات پر زور دیا کہ ایک چھوٹے واقعے کو بنیاد بنا کر بڑے سیاسی اور صوبائی معاملات تک جانے کی روایت غیر معمولی اور عجیب ہے۔
گل پلازہ سانحہ: دو منزلیں کلیئر، ہلاکتوں کی تعداد ، 83 افراد تاحال لاپتا
شہلا رضا نے سندھ کی تاریخ اور ثقافت پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ ہزاروں سال پرانا صوبہ ہے اور یہ وہ واحد صوبہ ہے جس نے مہاجرین کو دل کھول کر خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی تاریخ اور کردار کو ہمیشہ احترام کے ساتھ یاد رکھا جانا چاہیے۔
پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی نے اس موقع پر عوامی شعور اور تاریخی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاسی مباحثوں میں اعتدال کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جذباتی ردعمل کے بجائے حقائق کی بنیاد پر مسائل پر بات کرنی چاہیے تاکہ عوام میں غلط فہمی نہ پھیلے اور ملک کے اہم موضوعات پر توجہ دی جا سکے۔
