مہنگی بجلی نے صنعت کا پہیہ جام کر دیا: اپٹما

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے مرکزی چیئرمین کامران ارشد نے خبردار کیا ہے کہ بجلی کی بلند ترین قیمتوں نے ملکی صنعت، خصوصاً ٹیکسٹائل سیکٹر کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں کاروبار جاری رکھنا ممکن نہیں رہا، اسی لیے صنعتکار مجبور ہو کر اپنی فیکٹریوں کی چابیاں حکومت کے حوالے کرنے کا سوچ رہے ہیں تاکہ حکومت خود یہ صنعتیں چلا کر دکھائے۔

latest urdu news

اپٹما ہیڈ آفس میں دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کامران ارشد نے کہا کہ مہنگی توانائی، غلط پالیسیوں اور غیر مؤثر حکومتی فیصلوں کے نتیجے میں اب تک 150 ٹیکسٹائل ملیں بند ہو چکی ہیں جبکہ مزید یونٹس بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر معاشی ایمرجنسی نافذ کرے اور نمائشی ترقیاتی منصوبوں کے بجائے صنعتی بحالی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری جو ملک کی برآمدات اور روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، تیزی سے زوال کا شکار ہو رہی ہے۔ دسمبر کے مہینے میں مجموعی برآمدات میں 19.55 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ ٹیکسٹائل برآمدات میں بھی 8 فیصد کی نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کمزور ہوتی جا رہی ہے۔

پریس کانفرنس میں اپٹما نارتھ زون کے چیئرمین اسد شفیع نے بھی حکومت کی توانائی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس آئی ایف سی کے نیشنل کوآرڈینیٹر بھی اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں کہ 350 ارب روپے کی کراس سبسڈی واپس لی جانی چاہیے، لیکن اس کے باوجود صنعتوں پر اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔

وزیراعظم کا صنعتوں اور کسانوں کے لیے رعایتی بجلی پیکیج کا اعلان

اپٹما رہنماؤں نے واضح کیا کہ بجلی چوری اور ناقص انتظامات کا خمیازہ صنعتکار کیوں بھگتیں؟ اگر معیشت کا پہیہ رک گیا تو سڑکیں، انڈر پاس اور فلائی اوور کسی کام کے نہیں رہیں گے۔ انہوں نے پاور منسٹری کی کیلکولیشن کو بھی غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ صنعتی صارفین کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

آخر میں اپٹما قیادت نے زور دیا کہ صنعت کو قومی ترجیح نہ بنایا گیا تو اگلے چھ ماہ میں برآمدات مزید گر جائیں گی۔ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی سے پاکستان کو فائدہ اٹھانا چاہیے تھا، مگر ناقص پالیسیوں کے باعث یہ موقع بھی ضائع ہو گیا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter