وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں ستھرا پنجاب اتھارٹی قائم کرنے کی منظوری

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں صفائی، ویسٹ مینجمنٹ اور حفظانِ صحت کے نظام کو مؤثر اور جدید بنانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز کی سربراہی میں ستھرا پنجاب اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے لوکل گورنمنٹ نے ستھرا پنجاب اتھارٹی بل 2025 کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے، جس کے بعد صوبے میں صفائی کے امور ایک مرکزی اور بااختیار ادارے کے تحت لائے جائیں گے۔

latest urdu news

منظور شدہ بل کے مطابق ستھرا پنجاب اتھارٹی ایک خودمختار اور کارپوریٹ طرز کا ادارہ ہوگی، جس کی چیئرپرسن وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز ہوں گی جبکہ وزیر بلدیات کو اتھارٹی کا وائس چیئرمین مقرر کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مختلف صوبائی محکموں کے سیکرٹریز اور پنجاب کے تمام ڈویژنل کمشنرز اتھارٹی کے رکن ہوں گے، تاکہ صفائی اور ویسٹ مینجمنٹ کے معاملات میں بین المحکماتی رابطہ مؤثر بنایا جا سکے۔

بل میں واضح کیا گیا ہے کہ ستھرا پنجاب اتھارٹی صوبے میں ویسٹ مینجمنٹ سے متعلق پالیسی سازی، قوانین کے نفاذ، معیار کے تعین اور نگرانی کی ذمہ دار ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ اتھارٹی لینڈفل سائٹس کی منصوبہ بندی اور تعمیر بھی کرے گی تاکہ کچرے کو سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگایا جا سکے اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی لائی جا سکے۔

قانون کے تحت ہر ضلع میں ستھرا پنجاب ڈسٹرکٹ اتھارٹی قائم کی جائے گی، جس کے چیئرمین متعلقہ ڈپٹی کمشنر ہوں گے۔ ڈسٹرکٹ اتھارٹیز کو صفائی سے متعلق لائسنس جاری کرنے، رجسٹریشن کرنے اور فیس وصول کرنے کے اختیارات حاصل ہوں گے۔ اس کے علاوہ ویسٹ مینجمنٹ انسپکٹرز کی تعیناتی بھی ڈسٹرکٹ اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں ہوگی تاکہ صفائی کے عمل کی نگرانی مؤثر انداز میں کی جا سکے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز کا ستھرا پنجاب پروگرام عالمی سطح پر تسلیم، برطانیہ کے شہر برمنگھم میں ماڈل کے طور پر اپنایا گیا

بل میں دیہی علاقوں پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے، جہاں صفائی اور حفظانِ صحت کی صورتحال بہتر بنانا ستھرا پنجاب اتھارٹی کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہوگا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف شہروں بلکہ دیہات میں بھی صفائی کے نظام کو یکساں معیار پر لانے میں مدد ملے گی۔

مزید یہ کہ اتھارٹی کو اپنی فراہم کردہ خدمات کے عوض فیس مقرر کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔ تاہم بل میں یہ شق بھی شامل کی گئی ہے کہ ستھرا پنجاب اتھارٹی کے فیصلوں کو براہِ راست عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا، جس کا مقصد انتظامی معاملات میں غیر ضروری قانونی رکاوٹوں سے بچنا بتایا جا رہا ہے۔

حکومت پنجاب کا مؤقف ہے کہ ستھرا پنجاب اتھارٹی کے قیام سے صوبے میں صفائی کے نظام میں انقلابی بہتری آئے گی، ماحولیاتی مسائل میں کمی ہوگی اور عوام کو صاف ستھرا اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے گا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter