سانحہ گل پلازہ میں ریسکیو کی ناکامی حکومتی نااہلی کا ثبوت ہے: صدر انجمن تاجران سندھ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی کے سانحہ گل پلازہ پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے انجمن تاجران سندھ کے صدر جاوید قریشی نے حکومت کی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھا دیے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے دوران لوگوں کو بروقت ریسکیو نہ کرنا سراسر حکومتی نااہلی ہے، جس کا خمیازہ قیمتی انسانی جانوں اور بھاری مالی نقصان کی صورت میں سامنے آیا۔

latest urdu news

جیو نیوز کے پروگرام ’’جیو پاکستان‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے جاوید قریشی کا کہنا تھا کہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے نتیجے میں ہونے والے جانی اور مالی نقصانات براہِ راست تاجروں کو برداشت کرنا پڑ رہے ہیں، جبکہ اس سانحے کا ملبہ بھی بلاجواز تاجروں پر ہی ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر پہلے ہی شدید نقصان میں ہیں، مگر اس کے باوجود انہیں موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے جو ناانصافی کے مترادف ہے۔

صدر انجمن تاجران سندھ نے کہا کہ یہ حکومت کی واضح ناکامی ہے کہ وہ 34 گھنٹے گزرنے کے باوجود ریسکیو آپریشن مکمل نہ کر سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت اور مؤثر ریسکیو کیا جاتا تو قیمتی انسانی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ جاوید قریشی نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرنا چاہیے اور اس سانحے کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔

انہوں نے گل پلازہ کی انتظامی اور تکنیکی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دیکھ بھال یا مینٹیننس کی مد میں وصول کی جانے والی رقم چوکیداری کے نظام، عمارت کی مینٹیننس اور جنریٹر کے لیے ڈیزل پر خرچ کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق یہ رقم کسی غیر قانونی کام کے لیے استعمال نہیں کی جاتی، بلکہ عمارت کے روزمرہ انتظامات کے لیے ضروری ہوتی ہے۔

کراچی: گل پلازہ میں آگ 33 گھنٹے بعد قابو پائی گئی

جاوید قریشی نے مزید بتایا کہ گل پلازہ کے بیسمنٹ میں ابتدا میں پارکنگ کی سہولت موجود تھی، تاہم وقت کے ساتھ وہاں دکانیں قائم کر دی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمارت کے نقشے کے مطابق بیسمنٹ، گراؤنڈ اور پہلی منزل (گراؤنڈ پلس ون) کی اجازت تھی، لیکن بعد ازاں توسیع کا عمل جاری رہا۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گل پلازہ میں ہونے والی تمام توسیعات قانونی طریقہ کار کے تحت کی گئیں اور متعلقہ اداروں کی اجازت سے ہی کام کیا گیا۔

صدر انجمن تاجران سندھ کا کہنا تھا کہ اس سانحے کے بعد اصل مسئلے یعنی ریسکیو کی ناکامی اور حکومتی اداروں کی غفلت پر توجہ دینے کے بجائے تاجروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، اصل ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور آئندہ ایسے سانحات سے بچنے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی اپنائی جائے تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter