گل پلازہ آتشزدگی، فائر فائٹر فرقان علی کی نمازِ جنازہ ادا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے دوران اپنی جان قربان کرنے والے فائر فائٹر فرقان علی کی نمازِ جنازہ ادا کردی گئی۔ فرقان علی نے آگ میں گھرے افراد کو محفوظ نکالنے کے دوران فرض کی ادائیگی کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا اور شہریوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے ایک بہادر ہیرو کے طور پر امر ہوگئے۔

latest urdu news

تفصیلات کے مطابق فرقان علی کراچی فائر بریگیڈ سے وابستہ تھے اور گل پلازہ میں لگنے والی شدید آگ پر قابو پانے کے لیے دیگر اہلکاروں کے ساتھ طویل ریسکیو آپریشن میں مصروف تھے۔ وہ ایک کمسن بچے کے والد تھے اور اپنے خاندان کے واحد کفیل تھے۔ واقعے کے دوران شدید دھوئیں اور آگ کی لپیٹ میں آکر وہ جانبر نہ ہوسکے، تاہم ان کی بہادری اور قربانی کو عوامی سطح پر بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا جارہا ہے۔

نمازِ جنازہ میں فائر بریگیڈ کے افسران، اہل علاقہ، شہریوں اور مختلف سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر فضا سوگوار رہی اور ہر آنکھ اشکبار نظر آئی۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ شہید فائر فائٹر کی قربانی کو سرکاری سطح پر تسلیم کیا جائے اور ان کے اہل خانہ کو مکمل تحفظ اور سہولیات فراہم کی جائیں۔

فرقان علی کے اہل خانہ نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ انہیں الاٹ کیا گیا سرکاری گھر واپس نہ لیا جائے اور شہید کی اہلیہ کو سرکاری ملازمت دی جائے تاکہ خاندان کا مستقبل محفوظ ہوسکے۔ اہل خانہ کا کہنا تھا کہ فرقان علی نے انسانیت کی خدمت کرتے ہوئے اپنی جان قربان کی، اب ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان کے بچوں اور بیوہ کی کفالت کرے۔

کراچی: گل پلازہ میں آگ، 6 افراد جاں بحق اور 60 سے زائد لاپتہ

واضح رہے کہ گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ کو مکمل طور پر بجھانے میں ریسکیو اداروں کو 33 گھنٹے لگے۔ سرچ آپریشن کے دوران مزید لاشیں نکالی گئیں، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہوگئی، جبکہ 22 افراد مختلف نوعیت کی چوٹیں لگنے کے باعث زخمی ہوئے۔

آگ ہفتے کی شب تقریباً سوا دس بجے گراؤنڈ فلور پر لگی، جس نے تیزی سے عمارت کی بالائی منزلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ شدید آتشزدگی کے باعث عمارت کے کئی حصے منہدم ہوگئے، جس سے ریسکیو کام مزید مشکل ہوگیا۔ واقعے نے ایک بار پھر شہر میں فائر سیفٹی انتظامات پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ فرقان علی جیسے بہادر فائر فائٹرز کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter