افغان طالبان حکومت کو سفارتی محاذ پر مشکلات کا سامنا، عالمی سطح پر تنہائی برقرار

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان حکومت کو عالمی سفارتی سطح پر مسلسل ناکامیوں اور تنہائی کا سامنا ہے، جہاں نہ تو بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ پیش رفت ہو رہی ہے اور نہ ہی افغانستان کے مستقبل سے متعلق کسی اہم سفارتی عمل میں واضح پیش رفت نظر آ رہی ہے۔ حالیہ بیانات اور رپورٹس کے مطابق افغان مسئلہ ایک بار پھر عالمی ایجنڈے میں پس منظر کی طرف جاتا دکھائی دے رہا ہے۔

latest urdu news

افغان میڈیا اداروں آریانہ نیوز اور افغان انٹرنیشنل نے روس کے سینئر عہدیدار ضمیر کابولوف کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ افغانستان کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان نہ تو کوئی باضابطہ رابطہ ہوا ہے اور نہ ہی رواں سال اس حوالے سے کسی اجلاس کا انعقاد طے پایا ہے۔ روسی عہدیدار کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان افغانستان سے متعلق کوئی براہ راست مذاکرات بھی نہیں ہوئے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی طاقتیں فی الحال افغان صورتحال پر کسی مشترکہ حکمتِ عملی کی جانب پیش رفت نہیں کر رہیں۔

ضمیر کابولوف کا کہنا تھا کہ اگرچہ افغانستان خطے کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے، تاہم روس اور امریکا کے درمیان اس حوالے سے سفارتی سرگرمیوں میں جمود پایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق کسی اعلیٰ سطحی رابطے یا مشترکہ لائحہ عمل کی عدم موجودگی افغان طالبان حکومت کے لیے ایک اور سفارتی دھچکا ہے، جو پہلے ہی عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کی کوششوں میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی جریدے مڈل ایسٹ آئی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے افغان باشندوں کی امریکا میں آبادکاری کے لیے قطر میں قائم عارضی کیمپ بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ کیمپ افغانستان سے انخلا کے بعد افغان شہریوں کو عارضی طور پر رکھنے کے لیے قائم کیے گئے تھے، جہاں سے انہیں بعد ازاں امریکا منتقل کیا جانا تھا۔

افغان طالبان حکومت نے تاجروں کو پاکستان کے ساتھ تجارت ختم کرنے کا حکم دے دیا، 3 ماہ کی مہلت دی گئی

مڈل ایسٹ آئی کے مطابق کیمپ کی بندش کے فیصلے سے ہزاروں افغان شہریوں کے مستقبل پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں، جو اب تک امریکا میں مستقل آبادکاری کے منتظر تھے۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدام بھی افغان بحران سے متعلق عالمی دلچسپی میں کمی اور افغان عوام کے مسائل سے لاتعلقی کی ایک مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کو نہ صرف سفارتی سطح پر تسلیم کیے جانے میں ناکامی کا سامنا ہے بلکہ عالمی برادری کی جانب سے عملی اقدامات کی کمی بھی افغان عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ عالمی طاقتوں کے درمیان افغانستان پر عدم ہم آہنگی طالبان حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے، جس کے اثرات معیشت، انسانی حقوق اور علاقائی استحکام پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

مجموعی طور پر صورتحال اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ طالبان حکومت کو عالمی سطح پر قبولیت حاصل کرنے کے لیے ابھی طویل اور کٹھن راستہ طے کرنا ہوگا، جبکہ افغان عوام سفارتی جمود اور عالمی بے توجہی کے باعث شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter