قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ اگر پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں 5 یا 6 بنیادی نکات پر اتفاق رائے پیدا کر کے دستخط کر دیں تو وہ خود پاکستان تحریک انصاف کے بانی سے بھی ان نکات پر دستخط کروا لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لیے قومی حکومت اور اجتماعی فیصلوں کی فوری ضرورت ہے۔
کراچی میں سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی رہائش گاہ پر دیے گئے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان اس وقت شدید سیاسی، معاشی اور آئینی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے اور یہ بحران کسی بیرونی سازش کے بجائے اندرونی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے کئی ادارے اپنی آئینی حدود سے ہٹ کر کام کر رہے ہیں، تاہم ان کا واضح مؤقف ہے کہ انہیں فوج یا کسی ریاستی ادارے سے کوئی دشمنی نہیں، کیونکہ فوج ملک کے دفاع کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ غلط حکمت عملیوں کی وجہ سے ملک معاشی بدحالی اور فاقہ کشی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایک بڑی سیاسی جماعت سے اس کا انتخابی نشان چھین لیا گیا جبکہ ملک کی مقبول ترین جماعت کا قائد اس وقت جیل میں ہے، جو جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کسی اقتدار کے حصول کے لیے نہیں بلکہ آئین کے دفاع اور بالادستی کے لیے بنائی گئی ہے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ خیبر سے باجوڑ اور وزیرستان تک حالات تشویشناک ہیں، اور افغانستان سے متعلق مسائل کو زمینی حقائق کے مطابق حل کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق طاقت کے بجائے مذاکرات ہی مسائل کا واحد حل ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان ڈنڈے کے زور پر نہیں چل سکتا بلکہ عوام کو ساتھ لے کر چلنے سے ہی مسائل حل ہوں گے۔
محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی کے قائدِ حزبِ اختلاف مقرر، نوٹیفکیشن جاری
انہوں نے حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں طرزِ حکمرانی کا شعور نہیں۔ نواز شریف کی جانب سے افغان مہاجرین کو شہریت دینے کے معاملے پر بنائی گئی کمیٹی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت متفقہ فیصلہ کیا گیا تھا، مگر آج بھی اس مسئلے کو حل نہیں کیا جا سکا۔
قائد حزب اختلاف نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کا فوری اجلاس بلایا جائے، تمام ریاستی اداروں کو اعتماد میں لیا جائے اور اجتماعی دانش کے ذریعے ملک کو بحران سے نکالا جائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اپوزیشن اتحاد 8 فروری کو ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال اور یومِ سیاہ منائے گا، جبکہ عوام سے ووٹ کے تحفظ، آئین کی بالادستی، آزاد عدلیہ اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے گھروں سے نکلنے کی اپیل کی گئی ہے۔
اس موقع پر تحریک کے دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا اور شفاف انتخابات، آئینی بالادستی اور سیاسی استحکام کو ملک کی بقا کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
