محمود خان اچکزئی کا بطور اپوزیشن لیڈر نوٹیفیکیشن آج جاری ہو گا: رانا ثنااللہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے عمل میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں محمود خان اچکزئی کو اس عہدے کے لیے نامزد کیے جانے کے بعد کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل کر لی گئی ہے۔

latest urdu news

اسپیکر قومی اسمبلی کے دفتر کی جانب سے جانچ کا عمل مکمل ہونے کے بعد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے باقاعدہ سمری تیار کرکے اسپیکر آفس کو ارسال کر دی ہے، جس کے بعد نوٹیفکیشن جاری ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی نے گزشتہ روز محمود خان اچکزئی کے کاغذاتِ نامزدگی کی تفصیلی اسکروٹنی کی تھی۔ چونکہ اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لیے وہ واحد امیدوار ہیں، اس لیے اس مرحلے پر کسی قسم کی پیچیدگی سامنے نہیں آئی۔ پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام قانونی اور آئینی تقاضے پورے کر لیے گئے ہیں اور اب صرف باضابطہ نوٹیفکیشن کا اجرا باقی ہے۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا معاملہ حل ہونے کے قریب

دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ محمود خان اچکزئی کو بطور اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے کا نوٹیفکیشن آج جمعے کے روز جاری کر دیا جائے گا۔ نجی ٹی وی پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کا تقرر پارلیمانی نظام کے استحکام کے لیے ایک اہم قدم ہے اور اس سے ایوان میں جمہوری عمل کو تقویت ملے گی۔

رانا ثناء اللہ نے پروگرام کے دوران دیگر سیاسی امور پر بھی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کو سندھ سے متعلق معاملات ایوانِ صدر میں نہیں اٹھانے چاہیے تھے، کیونکہ ایسے امور پارلیمان یا متعلقہ فورمز پر زیرِ بحث لانا زیادہ مناسب ہوتا ہے۔ ان کے مطابق سیاسی جماعتوں کو ادارہ جاتی حدود کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ نظام میں ہم آہنگی برقرار رہے۔

ادھر پاکستان تحریک انصاف کے قومی اسمبلی میں چیف وہپ ملک عامر ڈوگر نے محمود خان اچکزئی کے ممکنہ نوٹیفکیشن کو خوش آئند قرار دیا، تاہم انہوں نے اس کے ساتھ کچھ تحفظات کا اظہار بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن قائمہ کمیٹیوں میں واپسی اور آئندہ پارلیمانی حکمتِ عملی طے کرنے کے لیے بانی تحریک انصاف سے ملاقات ناگزیر ہے۔

اس پر ردعمل دیتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر 8 فروری کے بعد 8 مئی جیسے احتجاج کی کال نہیں دی جاتی تو بانی تحریک انصاف سے ملاقات کا معاملہ بھی حل ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی درجہ حرارت میں کمی اور پارلیمان کے اندر مکالمے سے کئی مسائل کا حل ممکن ہے، بشرطیکہ تمام فریقین سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter