پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی پارٹی کا ایک قیمتی اثاثہ ہیں اور کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ انہیں کسی سازش یا دباؤ کے ذریعے سیاسی میدان سے باہر نکال دیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اپنے کارکنان اور رہنماؤں کے ساتھ کھڑی ہے اور کسی کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
سلمان اکرم راجا نے سہیل آفریدی سے متعلق جاری قانونی کارروائی پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ چند ماہ قبل تک ہم سہیل آفریدی کو ذاتی طور پر نہیں جانتے تھے، تاہم جس انداز میں تفتیش کا عمل مکمل ہونے کے بعد معاملہ اچانک فارنزک لیب تک پہنچایا گیا، اس نے کئی شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک مکمل تفتیش کے بعد عدالت نے فارنزک جانچ کی ہدایت کیوں دی۔
سہیل آفریدی نے افغان حکومت کا ترجمان بن کر جھوٹ اور منافقت کی انتہا کر دی،عطا تارڑ
سلمان اکرم راجا نے پنجاب فارنزک لیب کی رپورٹ کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رپورٹ غیر قانونی ہے اور اس میں شفافیت کا فقدان ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی اس رپورٹ اور پورے تفتیشی عمل کو عدالت میں چیلنج کرے گی اور قانونی جنگ ہر سطح پر لڑی جائے گی۔ ان کے مطابق انصاف کے تقاضے پورے کیے بغیر کسی بھی رپورٹ کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اس وقت ملک میں مذاکرات کے لیے کوئی سازگار ماحول نظر نہیں آ رہا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سنجیدگی کے ساتھ اصولوں کی بنیاد پر بات کرنا چاہتا ہے تو پی ٹی آئی اس کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شفاف انتخابات، عوامی مینڈیٹ کی واپسی اور آزاد عدلیہ جیسے بنیادی نکات پر بات چیت ہونی چاہیے، محض رسمی ملاقاتوں سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی کے معاملے میں سندھ میں دو دن کی رعایت دی گئی، جو کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ سلمان اکرم راجا کے مطابق پی ٹی آئی کسی خفیہ یا غیر اصولی راستے سے مذاکرات پر یقین نہیں رکھتی۔ انہوں نے بتایا کہ بات چیت کے لیے علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کو اختیار دیا گیا ہے۔
آخر میں سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اب پی ٹی آئی کو اپنا مقدمہ براہِ راست عوام کے سامنے رکھنا ہوگا۔ انہوں نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی حکومت کے ساتھ بیٹھ کر چائے بسکٹ پیے گئے مگر کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ ملاقاتوں کے حوالے سے بھی ہمیشہ یہی کہا جاتا ہے کہ پوچھ کر بتایا جائے گا، اس لیے اب پارٹی سنجیدہ اور بامقصد سیاست پر توجہ دے گی۔
