امریکی دباؤ کے باوجود ایران کے ساتھ معاہدے برقرار رہیں گے

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

روس نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے دی جانے والی کسی بھی قسم کی دھمکی یا دباؤ ایران کے ساتھ روسی معاہدوں اور دوطرفہ تعلقات کو متاثر نہیں کر سکتا۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ روس اور ایران کے درمیان تعلقات باہمی مفادات کی بنیاد پر قائم ہیں اور کسی تیسرے فریق کو ان تعلقات کی نوعیت بدلنے کا حق حاصل نہیں۔

latest urdu news

سرگئی لاروف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف دباؤ کی پالیسی نہ صرف غیر مؤثر ہے بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین اور ان اصولوں کے بھی خلاف ہے جنہیں خود امریکا نے فروغ دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا گلوبلائزیشن اور آزاد تجارت کے دعوے تو کرتا ہے، مگر عملی طور پر وہ اپنے ہی بنائے ہوئے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا دکھائی دیتا ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ امریکا کا یہ رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ واشنگٹن اب قابلِ اعتماد شراکت دار نہیں رہا۔ ان کے مطابق جب ایک طاقتور ملک بین الاقوامی معاملات میں غیر مہذب اور دھونس پر مبنی طریقے اختیار کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر اس کی مسابقتی پوزیشن کمزور ہو رہی ہے۔ لاروف نے کہا کہ دباؤ اور پابندیوں کی زبان کسی بھی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے عالمی عدم استحکام میں اضافہ ہوتا ہے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دو روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ امریکی صدر کے مطابق یہ فیصلہ حتمی ہے اور اس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ جو بھی ملک ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات برقرار رکھے گا، اسے امریکا کے ساتھ ہونے والی ہر قسم کی تجارت پر اضافی ٹیرف ادا کرنا پڑے گا۔

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کا یہ اقدام عالمی تجارتی نظام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھے گی بلکہ دیگر ممالک بھی دباؤ کا شکار ہوں گے۔ روس کے تازہ مؤقف سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ماسکو ایران کے ساتھ اپنے تعلقات پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں اور وہ امریکی دباؤ کے باوجود اپنی آزاد خارجہ پالیسی پر قائم رہے گا۔

روس اور ایران کے درمیان توانائی، دفاع اور علاقائی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں معاہدے موجود ہیں، جنہیں دونوں ممالک اسٹریٹجک اہمیت دیتے ہیں۔ روسی قیادت کا کہنا ہے کہ یہ تعلقات باہمی احترام اور مفادات پر مبنی ہیں اور مستقبل میں بھی برقرار رہیں گے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter