لندن: برطانیہ نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر قطر میں قائم امریکی فوجی اڈے سے اپنے عملے کو نکالنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات اور احتیاطی تدابیر کے تحت کیا گیا ہے، تاہم حکام نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
برطانوی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ دنیا بھر میں تعینات اپنے اہلکاروں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتا ہے اور بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے مطابق بروقت اقدامات کرنا معمول کا حصہ ہے۔ ترجمان کے مطابق قطر میں موجود عملے کے حوالے سے بھی احتیاطی بنیادوں پر فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کتنے اہلکاروں کو واپس بلایا جا رہا ہے اور یہ عمل کب تک مکمل ہوگا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں خطے میں عسکری سرگرمیوں اور بیانات نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، جس کے باعث مختلف ممالک اپنے سکیورٹی انتظامات پر نظرثانی کر رہے ہیں۔
اس سے قبل ایک سینئر ایرانی اہلکار نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے ایران کے ممکنہ ردعمل کی زد میں آ سکتے ہیں۔ خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی اہلکار نے کہا کہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کے اتحادی ممالک کو واضح پیغام دے دیا ہے۔
قطر کے العدید ایئربیس سے بعض امریکی اہلکاروں کو نکالنے کی ہدایت
سینئر ایرانی اہلکار کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور دیگر علاقائی ممالک کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی تو ان ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے بھی نشانہ بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برطانیہ کا قطر میں امریکی فوجی اڈے سے عملہ نکالنے کا فیصلہ خطے میں غیر یقینی صورتحال اور ممکنہ خطرات کی عکاسی کرتا ہے۔ قطر میں واقع امریکی اڈہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کی ایک اہم فوجی تنصیب سمجھا جاتا ہے، جہاں مختلف اتحادی ممالک کا عملہ بھی موجود ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو دیگر مغربی ممالک بھی اپنے اہلکاروں کی تعیناتی پر نظرثانی کر سکتے ہیں۔ موجودہ صورتحال نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ سمجھی جا رہی ہے بلکہ عالمی سیاست اور سلامتی پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
