پنجاب حکومت نے صوبے میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے اہم فیصلہ کیا ہے۔ چیف سیکرٹری پنجاب کے مطابق، اب سرکاری محکمے پیٹرول یا ڈیزل سے چلنے والی گاڑیاں خریدنے کے اہل نہیں ہوں گے، اور آئندہ صرف الیکٹرک یا ہائبرڈ گاڑیاں خریدی جا سکیں گی۔ تاہم، فیلڈ ڈیوٹی انجام دینے والی گاڑیوں کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
چیف سیکرٹری نے کہا کہ صوبے میں ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے اور گرین انرجی کے فروغ کے لیے یہ اقدام ضروری تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی جلد متعارف کروائی جائے گی، جس کے بعد صوبے میں سرکاری اور نجی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال مزید بڑھایا جائے گا۔
ٹریفک قوانین کی سختی: 6 دن میں 2600 پولیس اہلکاروں کو چالان، سینکڑوں گاڑیاں بند
مزید برآں، پنجاب حکومت نے نئے پیٹرول پمپس کی این او سی کے حوالے سے بھی اہم اقدامات کیے ہیں۔ اب کسی نئے پیٹرول پمپ کو کام کرنے کی اجازت صرف اس صورت میں دی جائے گی جب اس میں الیکٹرک چارجنگ یونٹ نصب ہو۔ چیف سیکرٹری کے مطابق، صوبے میں نئے 170 پیٹرول پمپس کے لیے یہ شرط لازمی ہوگی، جبکہ ان پیٹرول پمپس کے لیے ای بزپورٹل پر این او سیز جاری بھی کیے جا چکے ہیں۔ یہ اقدام صوبے میں گرین انرجی کے استعمال کو فروغ دینے اور ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
پنجاب حکومت نے اس سے قبل لاہور اور دیگر شہروں میں الیکٹرک اور ہائبرڈ بسوں کے اجرا کا بھی اعلان کیا تھا، جس سے شہری سطح پر ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ ملا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور میں الیکٹرک بس سروس کا افتتاح بھی کیا، جسے شہریوں نے خوش آئند قرار دیا۔
چیف سیکرٹری نے زور دیا کہ ماحول دوست اقدامات کو بروئے کار لانا ہر سطح پر ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہ صرف ماحولیات کے لیے اہم ہے بلکہ توانائی کی بچت اور پٹرولیم کی درآمدات میں کمی کے لیے بھی کارگر ثابت ہوگا۔ مستقبل میں اس پالیسی کو مزید مضبوط بنا کر پنجاب کو ملک میں گرین انرجی کے حوالے سے پیش پیش صوبہ بنایا جائے گا۔
