ایران: اگر امریکا دوبارہ فوجی آپشن اپناتا ہے تو ہم تیار ہیں

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عرب میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ اگر امریکا پہلے کی طرح دوبارہ فوجی آپشن استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ایران اس کے لیے تیار ہے۔

latest urdu news

مذاکرات میں ایران کا موقف

عراقچی نے مزید کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے دھمکی یا ڈکٹیشن کے بغیر تیار ہے، لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ واشنگٹن منصفانہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ان کا مؤقف ایران کی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک کسی بھی غیر ضروری فوجی کارروائی یا دباؤ کے خلاف محتاط رہنے کے ساتھ اپنی دفاعی تیاری جاری رکھے گا۔

امریکی اقدامات اور پابندیاں

اس بیان سے کچھ دن قبل امریکا نے ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کو اقتصادی پابندیوں کا سامنا ہوگا۔

اسی سلسلے میں، امریکی صدر نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ ایران کے خلاف مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں فوجی آپریشن بھی شامل ہے۔

ایران کے خلاف سخت اقدامات زیر غور، فوجی کارروائی کا بھی امکان: صدر ٹرمپ

ایران کا یہ موقف امریکی دھمکیوں کے جواب میں ایک واضح پیغام ہے کہ ملک اپنی سرحدوں اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ دوسری جانب امریکا کی اقتصادی پابندیاں اور فوجی آپشنز کی دھمکیاں خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر بھی ایران-امریکا تعلقات میں تناؤ کو مزید نمایاں کر رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر مذاکرات کی فضا قائم نہ ہوئی تو خطے میں اقتصادی و سیکیورٹی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں، اور ایران کے مضبوط دفاعی مؤقف کے پیش نظر کسی بھی فوجی آپریشن کا اثر عالمی سیاست میں شدید ہو سکتا ہے۔

ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی غیر منصفانہ دباؤ یا فوجی اقدام کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے، جبکہ امریکی اقدامات اور پابندیاں مزید عالمی تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter