کے پی اسمبلی کے خط پر نیا تنازع: کور کمانڈر کو اِن کیمرہ بریفنگ کی درخواست غیر آئینی قرار

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پشاور میں خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے سکیورٹی کی جانب سے کور کمانڈر پشاور کو اِن کیمرہ بریفنگ کے لیے لکھا گیا خط ایک نئے آئینی اور ادارہ جاتی تنازع کا سبب بن گیا ہے۔ اس خط کے منظرِ عام پر آنے کے بعد سکیورٹی ذرائع نے اس اقدام کو غیر آئینی، غیر ذمہ دارانہ اور غیر سنجیدہ قرار دیا ہے، جس کے بعد صوبائی حکومت اور عسکری اداروں کے دائرۂ اختیار پر بحث تیز ہو گئی ہے۔

latest urdu news

خط کا پس منظر اور مؤقف

ذرائع کے مطابق اس خط میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ خیبر پختونخوا میں پائیدار امن صرف سکیورٹی آپریشنز سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے سیاسی اور سماجی اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔ اسی تناظر میں صوبائی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے امن و امان کی صورتحال پر کور کمانڈر پشاور سے اِن کیمرہ بریفنگ کی درخواست کی۔

یہ خط مبینہ طور پر اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی جانب سے تحریر کیا گیا، جسے بعد ازاں مختلف حلقوں میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

سکیورٹی ذرائع کا سخت ردِعمل

سکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ صوبائی اسمبلی یا صوبائی حکومت کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ فوجی قیادت، بالخصوص کور کمانڈر یا جی ایچ کیو سے براہِ راست اِن کیمرہ یا ادارہ جاتی بریفنگ طلب کرے۔ ان کے مطابق ایسے معاملات وفاقی دائرۂ اختیار میں آتے ہیں اور اس کے لیے باقاعدہ منظوری اور آئینی طریقۂ کار ضروری ہوتا ہے۔

سکیورٹی ذرائع نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ تاحال ایسا کوئی خط کور ہیڈکوارٹر کو موصول نہیں ہوا، جس سے یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ آیا یہ خط محض ایک سیاسی بیان تھا یا واقعی کسی باضابطہ چینل کے ذریعے ارسال کیا گیا۔

ادارہ جاتی حدود اور آئینی پہلو

ذرائع کا کہنا ہے کہ روزمرہ کی سطح پر سول انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کے درمیان کوآرڈینیشن اور رابطہ اپنی جگہ موجود ہوتا ہے، تاہم صوبائی اسمبلی کے فورم پر امن و امان سے متعلق اِن کیمرہ بریفنگ ایک غیر معمولی اور حساس معاملہ ہے۔ یہ عمل نہ صرف آئینی تقاضوں سے جڑا ہوتا ہے بلکہ اس کے لیے وفاقی حکومت کی اجازت بھی لازم سمجھی جاتی ہے۔

سیاسی و انتظامی اثرات

سیاسی مبصرین کے مطابق اس خط نے ایک بار پھر سول اور عسکری اداروں کے اختیارات کی حد بندی کو موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات اداروں کے درمیان غیر ضروری کشیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ حامی حلقے اسے صوبائی سطح پر امن و امان سے متعلق تشویش کے اظہار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

مجموعی طور پر یہ معاملہ نہ صرف خیبر پختونخوا کی سیاست بلکہ ملک میں آئینی نظم و نسق اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے حوالے سے ایک اہم سوال بن چکا ہے، جس پر آنے والے دنوں میں مزید وضاحت اور ردِعمل متوقع ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter