اسلام آباد سے توانائی کے شعبے سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کراچی سمیت ملک بھر کے لیے بجلی کا بنیادی ٹیرف 2026 کے لیے برقرار رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے کو مہنگائی کے دباؤ میں گھرے صارفین کے لیے ایک اہم ریلیف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ بجلی کے نرخوں میں کسی اضافے کا عندیہ نہیں دیا گیا۔
یکساں بجلی نرخوں کی پالیسی کی منظوری
نیپرا نے ملک بھر میں یکساں بجلی نرخوں کے اطلاق سے متعلق وفاقی حکومت کی درخواست کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اس منظوری کے بعد اب وفاقی حکومت اس فیصلے کا حتمی نوٹیفکیشن جاری کرے گی، جس کے تحت کراچی اور دیگر علاقوں میں بجلی کے نرخ ایک جیسے رہیں گے۔ نیپرا کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق یکم جنوری سے ہوگا۔
گھریلو صارفین کے لیے موجودہ ٹیرف برقرار
نیپرا کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق گھریلو صارفین کے لیے بجلی کا زیادہ سے زیادہ بنیادی ٹیرف 47 روپے 69 پیسے فی یونٹ برقرار رکھا گیا ہے۔ اسی طرح کم آمدنی والے صارفین کو بھی ریلیف جاری رہے گا۔
- ایک سے 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے ٹیرف 10 روپے 54 پیسے فی یونٹ برقرار رہے گا۔
- 101 سے 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے ٹیرف 13 روپے ایک پیسہ فی یونٹ ہی لاگو ہوگا۔
یہ وہ طبقہ ہے جسے حکومت کی جانب سے سبسڈی بھی فراہم کی جاتی ہے، تاکہ مہنگی بجلی کے اثرات کم سے کم ہوں۔
نیپرا کا بجلی کے نرخوں میں اضافہ اور کچھ کمی، یکم جنوری سے فی یونٹ قیمتیں بدل گئیں
فیصلے کا پس منظر اور اہمیت
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ماضی میں بجلی کے نرخوں کا تعین عموماً یکم جولائی سے کیا جاتا تھا، تاہم وفاقی حکومت نے اس بار یہ فیصلہ کیا کہ ٹیرف کا اطلاق یکم جنوری سے کیا جائے۔ اس تبدیلی کا مقصد مالی سال کے بجائے کیلنڈر سال کے آغاز سے بجلی کے نرخوں میں استحکام پیدا کرنا بتایا جاتا ہے۔
عوامی ردِعمل اور توقعات
توانائی ماہرین کے مطابق بجلی کے بنیادی ٹیرف کو برقرار رکھنا مہنگائی کے موجودہ حالات میں ایک مثبت قدم ہے، تاہم صارفین کی توقعات اب بھی بجلی کے بلوں میں شامل دیگر سرچارجز اور ٹیکسز میں کمی سے وابستہ ہیں۔ نیپرا کے اس فیصلے سے کم از کم بنیادی ٹیرف کے حوالے سے عدم استحکام کا خدشہ وقتی طور پر ختم ہو گیا ہے، جس سے گھریلو صارفین کو کچھ حد تک ذہنی سکون ملا ہے۔
