وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سہیل آفریدی نے افغان حکومت کا ترجمان بن کر جھوٹ اور منافقت کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات نہ صرف قابل مذمت ہیں بلکہ قومی مفادات کے بھی سراسر خلاف ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیان پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر تفصیلی ردعمل دیا۔ عطا تارڑ نے لکھا کہ آج سہیل آفریدی افغانستان کے ترجمان کے طور پر بات کرتے نظر آئے، جو کہ انتہائی شرمناک اور افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک آئینی عہدے پر فائز شخص کا اس انداز میں غیر ذمہ دارانہ گفتگو کرنا ناقابل قبول ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پوری دنیا افغان طالبان کی جانب سے دہشت گردوں کی پشت پناہی کے شواہد دیکھ چکی ہے۔ ان کے مطابق ایسے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ عطا تارڑ نے کہا کہ ان حقائق کے باوجود اگر کوئی شخص انکار کرے تو یہ دانستہ جھوٹ اور منافقت کے مترادف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں، ہزاروں شہری، فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں۔ ایسے میں دہشت گردوں کے بیانیے کو سہولت فراہم کرنا ملک دشمنی کے برابر ہے۔
عطا تارڑ نے تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تحریک انتشار سے وابستہ افراد جب بھی بولتے ہیں تو بالواسطہ یا بلاواسطہ دہشت گردوں کی سہولت کاری کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ترقی اور استحکام فتنہ الخوارج اور دہشت گرد عناصر کو قبول نہیں، اسی لیے ملک کو بار بار نشانہ بنایا جاتا ہے۔
آخر میں وفاقی وزیر اطلاعات نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور ذاتی یا سیاسی مفادات کے بجائے قومی سلامتی کو ترجیح دینی چاہیے۔
