پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیا سال شروع ہو چکا ہے لیکن ملک کے مسائل وہی پرانے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پہلے سپر اسپیڈ کے دعوے کرتی رہی اور اب کسی نئے ونڈر بوائے کی تلاش میں نکل گئی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکمرانوں کے پاس مسائل کا کوئی واضح حل موجود نہیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا دورۂ سندھ مجموعی طور پر بہت اچھا رہا، تاہم سندھ حکومت کا آخری دن کا رویہ جمہوری اقدار کے منافی تھا۔ انہوں نے کہا کہ مہمانوں کے ساتھ ایسا سلوک کسی بھی صورت مناسب نہیں اور یہ جمہوری روایات کے خلاف ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی ثقافت میں ٹوپی اور اجرک کو خصوصی مقام حاصل ہے اور ان کی عزت و احترام ہر حال میں برقرار رکھا جانا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام دل کے بڑے اور مہمان نواز ہیں، مگر حکومت کا رویہ اس روایت کے برعکس نظر آیا۔
بیرسٹر گوہر نے مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نہ صرف سیاسی معاملات میں کنفیوژن کا شکار ہے بلکہ اپوزیشن سے متعلق فیصلوں میں بھی تاخیر کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کرے تاکہ پارلیمانی نظام صحیح انداز میں چل سکے۔
سلمان اکرم راجہ نے بیرسٹر گوہر کے بیان کیپھر تردید کر دی
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ حکومت کہیں خود ہی “ہوم الون” کا شکار نہ ہو جائے، کیونکہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا کردار جمہوریت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو اسے دعووں کے بجائے عملی اقدامات کرنے ہوں گے، ورنہ عوام کا اعتماد مزید مجروح ہوگا۔
آخر میں پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت سنجیدہ، شفاف اور عوام دوست پالیسیوں کی ضرورت ہے، نہ کہ تجربات اور نئے نعروں کی۔
