قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف کی تعیناتی کے معاملے پر طویل عرصے سے جاری ڈیڈ لاک بالآخر ختم ہو گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے محمود خان اچکزئی کو بطور اپوزیشن لیڈر تعینات کرنے کی اجازت اسپیکر قومی اسمبلی کو دے دی ہے، جس کے بعد اس اہم آئینی عہدے پر تقرری کا عمل باضابطہ طور پر شروع کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومتی اجازت ملنے کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے قائد حزبِ اختلاف کی تعیناتی کے لیے مشاورتی عمل کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں اسپیکر نے حکومتی اتحادی جماعتوں سے بھی رابطے کیے ہیں تاکہ آئینی تقاضوں کے مطابق معاملے کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد ارکان کی جانب سے محمود خان اچکزئی کو قائد حزبِ اختلاف نامزد کرنے کے لیے باقاعدہ درخواست پہلے ہی جمع کروائی جا چکی تھی۔ تاہم سیاسی اختلافات اور حکومتی سطح پر مشاورت مکمل نہ ہونے کے باعث اس معاملے پر تعطل پیدا ہو گیا تھا، جو اب ختم ہو گیا ہے۔
حکومتی اور اپوزیشن حلقوں کے درمیان محمود خان اچکزئی کے نام پر اتفاق رائے کے بعد قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اب اس تقرری میں مزید کسی تاخیر کا امکان نہیں اور جلد ہی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا۔
پی ٹی آئی میں محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے پر اختلافات موجود ہیں، اسپیکر
سیاسی مبصرین کے مطابق قائد حزبِ اختلاف کی تقرری پارلیمانی نظام کے استحکام کے لیے نہایت اہم ہے، کیونکہ اس عہدے کے بغیر پارلیمنٹ میں جمہوری توازن متاثر ہو رہا تھا۔ محمود خان اچکزئی کی تقرری سے پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا کردار مزید مؤثر ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ محمود خان اچکزئی ایک سینئر سیاستدان اور پارلیمانی تجربہ رکھنے والی شخصیت ہیں، اور ماضی میں بھی وہ مختلف اہم سیاسی اور آئینی معاملات پر واضح مؤقف رکھتے رہے ہیں۔ ان کی بطور قائد حزبِ اختلاف تعیناتی کو موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی آئینی تقاضے مکمل کرنے کے بعد جلد ہی قائد حزبِ اختلاف کی تعیناتی کا باقاعدہ اعلان کریں گے، جس کے ساتھ ہی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا خلا پُر ہو جائے گا۔
