باغ جناح میں جلسوں کی اجازت وفاق سے لی جاتی ہے: ناصر حسین شاہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیرِ بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے واضح کیا ہے کہ باغِ جناح میں کسی بھی سیاسی جلسے کے انعقاد کے لیے اجازت وفاقی حکومت سے لی جاتی ہے، اور سندھ حکومت خود بھی اسی طریقۂ کار پر عمل کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

latest urdu news

جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کو واضح طور پر مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ جلسے کے لیے گراؤنڈ کا استعمال کرے، تاہم اس کے باوجود پی ٹی آئی کے کارکن سڑکوں پر موجود رہے۔ انہوں نے کہا کہ باغ جناح میں جلسے کی اجازت لینا کوئی غیر معمولی بات نہیں، کیونکہ سندھ حکومت کو بھی جب وہاں جلسہ کرنا ہوتا ہے تو وفاق سے باقاعدہ اجازت لی جاتی ہے۔

ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ باغ جناح میں اس وقت بھی بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے، جس سے یہ تاثر دینا درست نہیں کہ حکومت نے کسی کو جلسے سے روکا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ گزشتہ روز پیش آنے والے واقعات کی مکمل انکوائری کروائی جائے گی تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں اور کسی بھی ذمہ دار کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جا سکے۔

صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی گئی۔ ان کے مطابق وزیرِ اعلیٰ کے پی کو حیدرآباد سے کراچی محفوظ ترین راستے کے ذریعے لایا گیا اور اس دوران سندھ پولیس کا مکمل پروٹوکول بھی دیا گیا۔ ناصر حسین شاہ نے زور دے کر کہا کہ سندھ حکومت نے ایک مہمان کے طور پر نہ صرف ان کا استقبال کیا بلکہ ان کی حفاظت اور سہولت کا بھی خاص خیال رکھا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر صدرِ مملکت کی جانب سے کسی قسم کی پابندی یا ہدایت ہوتی تو سندھ حکومت استقبال نہ کرتی، مگر ایسا کچھ نہیں تھا۔ اس کے باوجود وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے صدرِ مملکت پر تنقید سامنے آئی، جسے ناصر حسین شاہ نے نامناسب قرار دیا۔

ناصر حسین شاہ نے یہ بھی واضح کیا کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے سندھ حکومت سے کوئی شکایت سامنے نہیں آئی۔ ان کے مطابق نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد ن لیگ کی طرف سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ وہ سڑک پر جلسہ کریں گے، جس پر سندھ حکومت نے کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق سندھ حکومت کے اس مؤقف سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کراچی میں جلسوں اور احتجاج کے حوالے سے انتظامی معاملات کو سیاسی تنازع بنانے کے بجائے ضابطوں اور قوانین کے دائرے میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ آنے والے دنوں میں انکوائری رپورٹ اور مختلف جماعتوں کے ردعمل اس معاملے کو مزید واضح کر دیں گے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter